Bharat Express DD Free Dish

free trade agreement

وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے اعلیٰ سطحی سفارتی عزائم کو عوام کے لیے حقیقی معاشی مواقع میں تبدیل کریں گے اور بھارت کے کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں (ایم ایس ایم ایز) اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہند نژاد برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ اس بڑی بھارتی برادری سے خطاب کے منتظر ہیں، جس نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ اہم دو طرفہ ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور گرین ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے ڈنمارک کے بڑے پنشن فنڈز کو بھارت میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت بھی دی۔

بھارت نے اس معاہدے کے دوران اپنے حساس زرعی اور ڈیری سیکٹر کا تحفظ بھی یقینی بنایا ہے۔ دودھ، کریم، مکھن، دہی، پنیر اور دیگر زرعی مصنوعات کو اس ایف ٹی اے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے تبادلے کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔

وزارت کے مطابق یہ مذاکرات بھارت۔اسرائیل دوطرفہ تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور قومی ترجیحات اور عالمی اہداف کے مطابق اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کی توثیق کرتے ہیں۔ دونوں فریق ایک متوازن اور باہمی فائدہ مند معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت پیش رفت کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے کو تاریخی اور تبدیلی لانے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کی معیشت کو نئی سمت دے گا، منڈیوں کا دائرہ وسیع کرے گا اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

ارسولا وان ڈیر لیئن نے دفاعی صنعت میں بھارت اور یورپ کے طویل مدتی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم صرف اپنی معیشتوں کو مضبوط نہیں کر رہے، بلکہ ایک غیر محفوظ دنیا میں اپنے عوام کے لیے تحفظ بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آج دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اور جمہوریتیں اپنی پہلی سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کا آغاز کر رہی ہیں۔

توانائی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میں توانائی کی ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسپلوریشن سیکٹر کو کافی حد تک کھول دیا گیا ہے اور بھارت اس دہائی کے اختتام تک تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کر رہا ہے

بھارت-ای یو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو بھارت کے عالمی تجارت کو فروغ دینے کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ کی جانب سے عائد بلند ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے یورپی منڈی میں بھارتی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زیورات جیسے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔