India-New Zealand FTA: بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے سے کاروبار کو ملے گا فروغ، دونوں ممالک میں روزگار کے پیدا ہوں گے نئے مواقع: ہائی کمشنر
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ 20 اکتوبر کو وجے دشمی کے موقع پر نافذ ہوگا، معاہدے سے بھارتی برآمدات کو ڈیوٹی فری رسائی ملے گی اور ایم ایس ایم ای، کسانوں، نوجوانوں اور محنت پر مبنی شعبوں کے لیے مواقع بڑھیں گے۔
PM Modi Highlights Investment Goal: ہندوستان کا یورپ کے کسی اقتصادی بلاک کے ساتھ پہلا ایف ٹی اے، سوئس صدر گائے پارمیلن سے ملاقات میں پی ایم مودی نے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بتایا ہدف
مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کا ذکر کیا اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کے ساتھ تاریخی تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدے (TEPA) کے نفاذ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
India-UK Partnership: بھارت-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ نافذ، وزیراعظم مودی نے کہا ’’معاہدے پر عمل درآمد دونوں ممالک کی شراکت داری کا تاریخی لمحہ‘‘
وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے اعلیٰ سطحی سفارتی عزائم کو عوام کے لیے حقیقی معاشی مواقع میں تبدیل کریں گے اور بھارت کے کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں (ایم ایس ایم ایز) اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔
PM Modi’s New Zealand Visit: ’’بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے کاروبار کو ملے گی نئی رفتار…‘‘ پی ایم مودی کے دورے سے قبل نیوزی لینڈ کے پی ایم کا بیان
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہند نژاد برادری نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ اس بڑی بھارتی برادری سے خطاب کے منتظر ہیں، جس نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
India-Denmark Friendship: وزیر اعظم مودی نے ڈنمارک کے پنشن فنڈز کو بھارت میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دی دعوت
وزیر اعظم مودی نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ اہم دو طرفہ ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور گرین ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے ڈنمارک کے بڑے پنشن فنڈز کو بھارت میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت بھی دی۔
India-New Zealand Free Trade Agreement: بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہوا تاریخی فری ٹریڈ معاہدہ، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافے کی توقع
بھارت نے اس معاہدے کے دوران اپنے حساس زرعی اور ڈیری سیکٹر کا تحفظ بھی یقینی بنایا ہے۔ دودھ، کریم، مکھن، دہی، پنیر اور دیگر زرعی مصنوعات کو اس ایف ٹی اے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے تبادلے کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
India-New Zealand Free Trade Agreement: بھارت–نیوزی لینڈ فری ٹریڈ معاہدہ: عالمی کشیدگی کے بیچ نئی اقتصادی پیش رفت، تجارت اور روزگار کے وسیع مواقع متوقع
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔
Free Trade Agreement: وزیراعظم کے دورے سے قبل بھارت اور اسرائیل کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر پہلے دور کی بات چیت شروع
وزارت کے مطابق یہ مذاکرات بھارت۔اسرائیل دوطرفہ تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور قومی ترجیحات اور عالمی اہداف کے مطابق اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کی توثیق کرتے ہیں۔ دونوں فریق ایک متوازن اور باہمی فائدہ مند معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت پیش رفت کر رہے ہیں۔
India-EU Free Trade Agreement: ’وکست بھارت‘ کے وژن کو نئی رفتار، وزیر اعظم مودی نے بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدے کو تاریخی قرار دیا، روزگار کے نئے دروازے کھلنے کی امید
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے کو تاریخی اور تبدیلی لانے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کی معیشت کو نئی سمت دے گا، منڈیوں کا دائرہ وسیع کرے گا اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
India-EU Free Trade Agreement: ’’جب بھارت کامیاب ہوتا ہے تو دنیا زیادہ مستحکم، خوشحال اور محفوظ ہوتی ہے…‘‘، یورپی کمیشن کی صدر نے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تعریف کی
ارسولا وان ڈیر لیئن نے دفاعی صنعت میں بھارت اور یورپ کے طویل مدتی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم صرف اپنی معیشتوں کو مضبوط نہیں کر رہے، بلکہ ایک غیر محفوظ دنیا میں اپنے عوام کے لیے تحفظ بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آج دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اور جمہوریتیں اپنی پہلی سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کا آغاز کر رہی ہیں۔





