Urdu Conclave 2026

Economic Partnership

یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گزشتہ جون امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی وفد کے ہمراہ بھارت کے مرکزی وزیرتجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے میں قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں اور آزاد، محفوظ اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ کواڈ جیسے کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر بھی دونوں ممالک کا اشتراک علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سیلفی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مل کر اپنی معیشتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں اور آسٹریلوی و بھارتی کاروباری اداروں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اے آئی مشن، کوانٹم مشن اور سیمی کنڈکٹر پروگرام کے لیے 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبوں میں عالمی سطح کے حل تیار کر سکتے ہیں۔

امریکی قانون سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھارت کے سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی بات چیت جاری ہے اور اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جاری مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور باہمی مفاد پر مبنی معاہدے کی راہ ہموار کریں گے۔

اے ای پی سی نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں بہتری اور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پر مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیش رفت سے کینیڈا کو بھارتی ملبوسات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ برازیل میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے لیے ایک سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور بلاک چین جیسے شعبوں میں تعاون کو ترجیح قرار دیا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کو جامع ہونا چاہیے اور مشترکہ ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔ 

سویڈن کی نائب وزیراعظم بدھ کے روز قومی راجدھانی پہنچی تھیں تاکہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں شرکت کر سکیں۔ وزارت خارجہ نے اپنے پیغام میں بھارت-سویڈن تعلقات کو تجارت، معیشت، سائنس، اختراع، موسمیاتی اقدام اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں پر محیط قرار دیا۔

مالی سال 2024-25 میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 1.3 ارب ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرو ڈیوٹی رسائی، ضابطہ جاتی آسانیوں اور خدماتی شعبے کی آزادی سے یہ معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے نئی راہیں کھولے گا اور بحرالکاہل خطے میں بھارت کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔