Urdu Conclave 2026

US-Israel vs Iran Conflict

 40 دنوں کی جنگ اورزبردست نقصان کے بعد جی-7 میں امریکہ-ایران کے درمیان معاہدہ ہوا۔ ٹرمپ نے اسے بڑی جیت بتایا، لیکن معاہدے کی شرائط سے لگتا ہے کہ انہوں نے ایران میں اقتدار تبدیلی، یورینیم، میزائل پروگرام اور اقتصادی پابندیوں پر سرینڈرکیا۔ ایران کو 300 ارب ڈالر اور تیل کی برآمد کی چھوٹ ملی۔ یہ معاہدہ ٹرمپ کی 'زیادہ پریشر' پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکہ-اسرائیل کی ایران سے کئی ماہ سے چل رہی جنگ کے کئی مقاصد تھے، لیکن سب سے اہم تھا کہ اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن اب اس سے متعلق بھی کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں، سی آئی اے اوراوڈی این آئی کے درمیان کشیدگی مبینہ طور پر بڑھ رہی ہے۔ تنازعہ ایران کی تشخیص، صدرکی ڈیلی انٹیلی جنس رپورٹ، کووڈ-19 کی ابتدا کی تحقیقات اورسیکورٹی کلیئرنس کی منسوخی جیسے مسائل پر تنازعات پیدا ہوئے ہیں۔ تلسی گیبارڈ کے ڈی این آئی بننے کے بعد دونوں ایجنسیوں کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں اور معاملہ جانچ تک پہنچ گیا۔

وہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر بڑی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرایران نے جلد ہی نیوکلیئرمعاہدہ پربہترتجویزنہیں دی تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھڑی چل رہی ہے اورایران کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا ایکسیو سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ ابھی بھی جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدہ چاہتا ہے۔

امریکہ کے ساتھ جنگ ​​بندی مذاکرات کے لئے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقرقالیباف نے ماضی کی دھوکہ دہی کو یاد کرتے ہوئے امریکہ پرعدم اعتماد کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مخلصانہ مذاکرات میں مصروف ہے، لیکن امریکہ پراعتماد نہیں کرتا۔

ایران نے جنگ بندی کے درمیان آبنائے ہرمز سے ہر دن صرف 15 جہازوں کے گزرنے کی شرط رکھی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین میں زبردست غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ آئیے اس کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی سے مغربی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہونے کی امید ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان نے ایران میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کومشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑنے کے لئے اپنے سفارت خانہ سے رابطہ کریں۔

امریکہ اورایران کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ رک گئی ہے۔ دونوں ملک سیزفائر پر راضی ہوگئے ہیں۔ اس قدم سے پوری دنیا نے راحت کی سانس لی۔ ابنائے ہرمز سے اب جہاز بغیر روک ٹوک کے نکل سکیں گے۔ حالانکہ سیزفائر سے امریکہ میں بیٹھے ایک شخص کو صدمہ لگا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کوگھٹنے ٹیکنے مجبورکرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، لیکن ایران پوری مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف معاہدے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران پردباؤ ڈالنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں اوراس دوران انہوں نے دھمکیاں بھی دی ہیں۔

ایران میں بغاوت کرنے کی امریکہ-اسرائیل کا منصوبہ فی الحال ناکام رہا ہے۔ موساد کی حکمت عملی کے تحت حملوں کے بعد عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا تھا، لیکن تین ہفتوں بعد بھی کوئی بڑا آندولن نہیں ہوا۔ آئیے اس پلان کے ناکام ہونے کی وجہ جانتے ہیں۔