امریکہ کی دو اہم خفیہ ایجنسیوں سی آئی اے اورآفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹلی جنس (اوڈی این آئی) کے درمیان گزشتہ کچھ وقت سے کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، سی آئی اے نے ایران جنگ سمیت کچھ اہم خفیہ رپورٹوں پرکام کرنا بند کردیا ہے۔ دونوں ایجنسیوں میں جانکاری شیئرکرنے اور کام کی ذمہ داریوں سے متعلق اختلافات سامنے آئے ہیں۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق، یہ تنازعہ فروری 2025 میں تلسی گیبارڈ کے ڈائریکٹرآف نیشنل انٹلی جنسل (ڈی این آئی) بننے کے بعد شروع ہوا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ایران سے متعلق انٹلی جنس تشخیص میں اب سی آئی اے باقاعدگی سے شامل نہیں ہو رہا ہے۔ امریکہ فروری سے ایران کے ساتھ فوجی تنازعہ میں ملوث ہے اوردونوں ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی آئی اے اوراوڈی این آئی اب تقریباً الگ الگ ایجنسیوں کے طورپرکام کر رہے ہیں۔ تلسی گیبارڈ نے 22 مئی 2026 کو اپنے شوہرکی دیکھ بھال کے لئے استعفیٰ دے دیا، جوکینسرمیں مبتلا ہیں۔
سی آئی اے نے رپورٹ جاری کرنا بند کردیا تھا
گزشتہ سال دونوں ایجنسیوں کے درمیان کشیدگی اتنی بڑھ گئی تھی کہ سی آئی اے نے کچھ وقت کے لئے نیشنل انٹلی جنس کونسل (این آئی سی) کی رپورٹس کو اپنے انٹرنل نیٹ ورک پرجاری کرنا بند کردیا تھا۔ اس سے ان رپورٹس تک پہنچ متاثرہوئی۔ حالانکہ ایک امریکی افسر نے کہا کہ یہ پریشانی صرف کچھ گھنٹوں تک رہی اوراس کی وجہ تکنیکی عمل سے متعلق تھی۔ ذرائع کے مطابق، تلسی گیبارڈ نے عہدہ سنبھالتے ہی صدرکودی جانے والی روزانہ کی خفیہ رپورٹ پریسیڈینشیل ڈیلی بریف (پی ڈی بی) پرزیادہ کنٹرول رکھا۔ پہلے اس رپورٹ کو تیارکرنے میں سی آئی اے کا اہم رول ہوتا تھا۔
گیبارڈ نے الگ گروپ بنایا
اس کے بعد گیبارڈ نے ڈائریکٹرس انیشیئیٹیوگروپ نام کا اسپیشل گروپ بنایا۔ اس کا مقصد خفیہ ایجنسیوں میں مبینہ سیاسی تعصب کی تحقیقات کرنا تھا۔ اس گروپ نے سابق صدرجان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق دستاویزات کوظاہرکرنے، انتخابی ووٹنگ مشینوں کی حفاظت کی چھان بین اورکووڈ-19 کی ابتداء کی تحقیقات پربھی کام کیا۔ حالانکہ کئی سابق انٹیلی جنس اہلکاروں اور ناقدین کا الزام ہے کہ اس گروپ کوصدرڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کونشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ گروپ کے اراکین کا خیال تھا کہ سی آئی اے نے ان کی تحقیقات کے لیے ضروری خفیہ معلومات اوردستاویزات مکمل طورپرفراہم نہیں کیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

