Bharat Express DD Free Dish

US-Israel

امریکی خفیہ ایجنسیوں، سی آئی اے اوراوڈی این آئی کے درمیان کشیدگی مبینہ طور پر بڑھ رہی ہے۔ تنازعہ ایران کی تشخیص، صدرکی ڈیلی انٹیلی جنس رپورٹ، کووڈ-19 کی ابتدا کی تحقیقات اورسیکورٹی کلیئرنس کی منسوخی جیسے مسائل پر تنازعات پیدا ہوئے ہیں۔ تلسی گیبارڈ کے ڈی این آئی بننے کے بعد دونوں ایجنسیوں کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں اور معاملہ جانچ تک پہنچ گیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ممتا بنرجی ہمیشہ خود کو مظلوم ظاہر کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کبھی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، کبھی سر پر پٹی بندھ جاتی ہے، کبھی بیمار ہو جاتی ہیں اور پھر الیکشن کمیشن کے سامنے بے بسی ظاہر کرتی ہیں۔‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق، ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ حالانکہ، ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تیسرے فریق کے ذریعے ہلکا پھلکا پیغام رسانی ہوئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کو حاصل کرنے کا امکان ابھی بھی زیرغور ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ آپشن میز پر موجود ہے۔ مشرق وسطی میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر خدشات کو بڑھا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم سے توانائی، سلامتی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماسکو نے کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  سفارتی حل اور علاقائی مکالمے پر زور دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے پہلا قدم فوری طور پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ساتھیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی موت نے قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، تاہم ان کا مشن پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گا۔

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

مغربی ایشیا میں جاری تنازع اب پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ہفتے کے روز ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین منتخب کر لیا گیا ہے، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے اس کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان پاکستان کا ایران کے تئیں حمایت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ-اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد پورے جموں و کشمیر میں حالات حساس بنے ہوئے ہیں اور پولیس و انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔