ترواننت پورم (کیرالہ): کیرالہ بی جے پی کے صدر راجیو چندر شیکھر نے بدھ کے روز کانگریس اور سی پی ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاری اسرائیل۔ایران تنازع میں صرف امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم ملیالی باشندوں کو درپیش خطرات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجیو چندرشیکھر نے کہا کہ سی پی ایم اور کانگریس ایران پر حملے کے لیے صرف امریکہ اور اسرائیل کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، لیکن ایران کی کارروائیوں کے باعث خلیجی ممالک میں رہنے والے ملیالی بھائیوں اور بہنوں کو لاحق خطرات پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور سی پی ایم ’’شرمناک سیاست‘‘ کر رہے ہیں اور سیاسی اسلام کے معاملے میں دونوں جماعتوں کا رویہ یکساں ہے۔ ان کے مطابق یہ جماعتیں پرتشدد اسلامی ریاستوں یا تنظیموں، چاہے وہ جماعتِ اسلامی ہو یا ایران، کے حق میں آواز بلند کرتی ہیں، مگر بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک میں مقیم لاکھوں ملیالیوں کے تحفظ پر بات نہیں کرتیں، جو اپنی کمائی ریاست کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھیجتے ہیں۔
پرینکا گاندھی اور پنارائی وجین پر بھی تنقید
راجیو چندرشیکھر نے کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ کی بات تو کریں گی، لیکن نائجیریا میں ہلاک ہونے والے ہزاروں عیسائیوں یا شام میں قتلِ عام کا شکار عیسائیوں پر خاموش رہیں گی۔ انہوں نے کیرالہ کے وزیراعلیٰ پنارائی وجین کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ علاج کے لیے امریکہ جاتے ہیں اور سرکاری اسپتال استعمال نہیں کرتے، مگر امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف مبینہ تشدد یا خلیجی تعاون کونسل (GCC) ممالک میں مقیم ملیالیوں کو لاحق خطرات پر بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
تنازع پانچویں روز میں داخل
مغربی ایشیا میں جاری تنازع اب پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ہفتے کے روز ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین منتخب کر لیا گیا ہے، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے اس کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

