مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال میں حکمراں جماعت کے خلاف سخت حملہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتابنرجی ’وکٹم کارڈ‘ کی سیاست کا الزام عائد کیا ہے۔ کولکاتا میں بی جے پی کی چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ریاست کے عوام ان کے سیاسی حربوں کو بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ممتا بنرجی ہمیشہ خود کو مظلوم ظاہر کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کبھی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، کبھی سر پر پٹی بندھ جاتی ہے، کبھی بیمار ہو جاتی ہیں اور پھر الیکشن کمیشن کے سامنے بے بسی ظاہر کرتی ہیں۔‘‘ مغربی بنگال میں انتخابات دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ سیاسی ماحول پہلے ہی خاصا گرم ہو چکا ہے۔
ایس آئی آر اور عدالتی افسران کا معاملہ
امت شاہ نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران صرف بنگال میں عدالتی افسران کی تعیناتی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں یہ عمل جاری ہے، مگر صرف بنگال میں ایسا کیوں ہوا اس کا جواب ممتا بنرجی کو عوام کو دینا چاہیے۔ بی جے پی رہنما نے کہا کہ ان کی پارٹی نہ صرف ووٹر لسٹ سے بلکہ پورے ملک سے ’’دراندازوں‘‘ کو نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم ہر ایک درانداز کی شناخت کر کے اسے ملک سے باہر کریں گے، یہی ہماری پارٹی کا ایجنڈا ہے۔‘‘
سرحدی باڑ اور حکومت بنانے کا دعویٰ
امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ 6 مئی کو بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنے گی اور 45 دن کے اندر سرحدی باڑ کے لیے زمین فراہم کر دی جائے گی تاکہ دراندازی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے ممتا حکومت پر الزام لگایا کہ 77 برادریوں کو او بی سی زمرے میں شامل کیا گیا، جن میں سے 75 مسلم کمیونٹیز ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب او بی سی کا تعین مذہب کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ امت شاہ نے بھرتی گھوٹالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی نوجوان عمر کی حد ختم ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بی جے پی حکومت بننے پر ایسے امیدواروں کو 5 سال کی عمر میں رعایت دی جائے گی اور ایس ایس سی بھرتیوں میں شفاف عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

