Urdu Conclave 2026

Israel strike Natanz nuclear facility: ایران کے نطنز جوہری مرکز پر امریکی و اسرائیلی حملہ، تابکاری اخراج ہونے کی کوئی اطلاع نہیں، عالمی تشویش میں اضافہ

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کو حاصل کرنے کا امکان ابھی بھی زیرغور ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ آپشن میز پر موجود ہے۔ مشرق وسطی میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر خدشات کو بڑھا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم سے توانائی، سلامتی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تہران: ایرانی سرکاری میڈیا تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ہفتہ کی صبح ایران کے اہم یورینیم افزودگی مرکز پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ نطنز جوہری تنصیب کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو ایران کے سب سے اہم جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ایجنسی نے بتایا کہ حملے کے بعد کسی قسم کے تابکاری اخراج کی اطلاع نہیں ملی اور قریبی رہائشیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ نطنز کی یہ تنصیب پہلے بھی کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔ جون 2025 میں ہونے والی اسرائیل-ایران 12 روزہ جنگ کے دوران بھی یہ ایک بڑا ہدف تھی، جب اسرائیل نے ایران کے فوجی اور جوہری ڈھانچے پر متعدد حملے کیے تھے، بعد ازاں امریکہ بھی اسرائیل کی حمایت میں اس تنازع میں شامل ہوا تھا۔ حالیہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اہم فوجی و اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کی لاعلمی

امریکی میڈیا ادارے سی این این کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج نے اس حملے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔  فوج کا کہنا ہے کہ انہیں اس مخصوص تنصیب پر کسی کارروائی کی معلومات نہیں ہیں۔ سی این این کے مطابق امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے آغاز کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب نطنز مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو حاصل کرنے کے مختلف منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی بھی ممکنہ کارروائی کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا، تاہم خفیہ امریکی فوجی یونٹ ’’جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ‘‘ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جو ہتھیار بنانے کے معیار کے قریب ہے۔ اس کا بڑا حصہ ان جوہری تنصیبات کے نیچے محفوظ ہے جنہیں گزشتہ سال امریکہ نے ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے تحت نشانہ بنایا تھا۔

بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کو حاصل کرنے کا امکان ابھی بھی زیرغور ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ آپشن میز پر موجود ہے۔ مشرق وسطی میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر خدشات کو بڑھا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم سے توانائی، سلامتی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read