Bharat Express DD Free Dish

Iran Attack

امریکی رکنِ پارلیمنٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے اصل حکمت عملی کیا ہے؟

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کو حاصل کرنے کا امکان ابھی بھی زیرغور ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ آپشن میز پر موجود ہے۔ مشرق وسطی میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر خدشات کو بڑھا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم سے توانائی، سلامتی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران نے دبئی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ اورابوظہبی پرڈرون حملہ کرکے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود بند کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کئی میزائلوں کوبھی روکا گیا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم Flightradar24 کے مطابق ممکنہ ایرانی ڈرون حملوں کے امکان کی خبروں کے درمیان کئی ایئرکرافٹ دبئی کے چکر لگاتے رہے یا وہاں پہنچنے میں تاخیر کرتے رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر سابق پینٹاگون عہدیدار عالیہ عواد اللہ نے کہا ہے کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکہ ایران میں اپنی فوج نہ اتار دے۔ ایسا کرنے کے لیے کم از کم 22 لاکھ فوجیوں کو ایران میں تعینات کرنا پڑے گا۔

آسٹن پولیس چیف لیزا ڈیوس نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور نے اپنی گاڑی ایک بیئر گارڈن کے باہر کھڑی کی اور صحن میں بیٹھے افراد پر پستول سے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد وہ گاڑی سے باہر نکلا اور راہگیروں پر گولیاں چلانے لگا۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔