متحدہ عرب امارات (یواے ای) میں ہفتہ کوایران کی طرف سے نئے حملے کئے گئے ہیں۔ دبئی اورابوظہبی میں تیزدھماکے سنے گئے ہیں۔ افسران نے بتایا کہ دبئی کے ایئرپورٹ پرڈرون گرا۔ حالانکہ حادثہ کا اثرمحدود تھا۔ ساتھ ہی بتایا کہ ایک روکی گئی میزائل کوملبے نے بھی نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد دبئی کا ایئراسپیس پھرسے بند کردیا گیا ہے۔ ایک دن پہلے دبئی اورقطر کے لوگوں کوان کے فون پرمیزائل کے خطرے کے الرٹ ملے تھے۔ حالانکہ قطرنے اپنے لوگوں کوپھرسے بتایا کہ سیکورٹی کا خطرہ کم ہوگیا ہے۔
فلائٹ-ٹریکنگ پلیٹ فارم کے مطابق، ایرانی ڈرون حملہ کے امکان کی خبروں کے درمیان کئی ایئرکرافٹ دبئی کے چکرلگاتے رہے یا وہاں پہنچنے میں تاخیرکرتے رہے۔ یہ ڈیولپمنٹ تب ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان لڑائی دوسرے ہفتے میں بھی جاری رہی، جس سے پورے علاقے میں سیکورٹی کی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔
Flights bound for Dubai are holding after a reported drone/missile strike in close proximity to the airport. https://t.co/Xv8JfcamE6 pic.twitter.com/Q41IirIJCV
— Flightradar24 (@flightradar24) March 7, 2026
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرجنگ کا اثر
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جودنیا کے سب سے مصروف ہب میں سے ایک ہے اورہارٹس فیلڈ-جیکسن اٹلانٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبرپرہے۔ اس ایئرپورٹ کوایرانی حملوں سے ہونے والی پریشانیوں کا خاص سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایئرپورٹ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ایک کانکورس کونقصان پہنچا اورچاراسٹاف زخمی ہوگئے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمنلوں کوپہلے ہی مسافروں سے خالی کرا لیا گیا تھا۔
8 ممالک پر ایران نے کئے حملے
28 فروری کوایران پرامریکی-اسرائیلی حملے کے بعد شروع ہونے والا تنازعہ اب دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے 8 ممالک پر حملے کئے ہیں، جن میں بنیادی طورپرامریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات خاص طورپرسخت متاثرہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

