امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باعث ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک مختصر پیغام کے ذریعے ایران کی بگڑتی معاشی صورتحال کو بیان کیا۔
ایران کی معاشی بدحالی کا دعویٰ
ٹرمپ نے کہا کہ ایران ’نقدی کے لیے ترس رہا ہے‘ اور اسے روزانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھلوانا چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے بحریہ اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، جس کے باعث وہ شدید پریشانی میں ہیں۔
امریکی ناکہ بندی اور اس کے اثرات
ٹرمپ کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کی تیل سپلائی اور سمندری تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز ، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی شپنگ ہوتی ہے، اس بحران کا مرکز بن چکا ہے۔
تیل پر انحصار اور روزانہ نقصان
حقیقت یہ ہے کہ ایران کی معیشت بڑی حد تک اسی آبی گزرگاہ اور تیل کی برآمدات پر منحصر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 43.5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو تیل کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے سبب ہے۔
سمندری تجارت پر شدید اثرات
رپورٹس کے مطابق ایران کی 90 فیصد سے زائد سمندری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہی تو اقتصادی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کرنسی پر دباؤ، مہنگائی میں اضافہ اور بینکاری بحران جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
عالمی توانائی سپلائی پر اثر
اس دوران خطے میں سمندری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق جہاں پہلے روزانہ 100 سے زائد جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، اب ان کی تعداد نہایت کم رہ گئی ہے۔ کئی آئل ٹینکر اور جہاز خلیجی علاقے میں پھنس گئے ہیں، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی حکمت عملی اور ایران کا ردعمل
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقتصادی دباؤ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ڈالا جا رہا ہے۔ حالانکہ، تہران نے اس حکمت عملی کو ’معاشی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو وہ اس کا جواب دے سکتا ہے۔
عالمی معیشت کے لیے خطرہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اس کشیدگی اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اٹلانٹک کونسل کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کو توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی میں کمی اور عالمی تجارت میں رکاوٹ جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
