US-Israel vs Iran War: ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو لے کر سات ممالک سے کی بات چیت، نیٹو پر کیا تشویش کا اظہار، فوجی مدد کے لیے کوئی ملک آگے نہ آیا
امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔
Middle East Conflict: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدے سے انکار، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زندہ ہونے پر بھی ظاہر کیا شبہ
امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔
Iran-US-Israel War: آبنائے ہرمز کھلا ہے، مگر اس کا کنٹرول ہمارے پاس ہے: آئی آر جی سی کمانڈر
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
West Asia Conflict: آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کی آمدورفت بحال، صنعتکاروں نے مودی کی سفارت کاری کو سراہا
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔
Middle East Crisis: ہم بھی جنگ کے لیے تیار ہیں، آپ شروع تو کر سکتے ہیں مگر ختم نہیں: ایرانی سفیر محمد فتح علی
ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔
Indian Vessel ‘Shivalik’ Safely Exits Strait of Hormuz: ایل پی جی لے کر آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکلا بھارتی جہاز ’شیوالک‘
آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر ایران کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس علاقے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
Iran to Provide Safe Passage to Indian Ships: ’’آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دے گا ایران…‘‘، ایرانی سفیر محمد فتح علی نے دی جانکاری
سفیر فتح علی نے کہا کہ بھارت اور ایران خطے میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارا دوست ملک ہے۔ آپ اسے دو سے تین گھنٹوں کے اندر دیکھ لیں گے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران اور بھارت کے اس خطے میں یکساں مفادات ہیں۔
Iran Crisis-Amit Shah Action Plan: ایران بحران پر امت شاہ کا ‘ایکشن پلان’: تیل کے ٹینکروں کو نکالنے کے لیے سپر کمیٹی قائم، تہران سے براہِ راست ہوگی بات چیت!
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے درمیان آبنائے ہرمز میں پھنسے 24 بھارتی جہازوں اور تقریباً 600 عملے کے ارکان کو نکالنے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
India Oil Tanker Shenlong Strait Of Hormuz Diplomacy: آبنائے ہرمز سے نکل کر ممبئی پہنچا بھارت کا تیل ٹینکر، کیا ایران کے ساتھ بھارت نے کرلی ہے کوئی خفیہ معاہدہ؟
حالیہ دنوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک حساس اور خطرناک سمندری راستہ بنا دیا ہے۔ کئی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے حالات میں بھارتی ٹینکر کا اس راستے سے محفوظ گزر کر ممبئی پہنچ جانا ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Donald Trump On Strait Of Hormuz: آبنائے ہرمز محفوظ ہے…، ٹرمپ نے کہا- استعمال کریں تیل کمپنیاں، ایران نے بھارتی جہازوں کو گزرنے کی دے دی اجازت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔





