Strait of Hormuz Crisis: آبنائے ہرمز بحران، یونان اور جرمنی کا فوجی شمولیت سے انکار
ماریناکس نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یورپی یونین کے آپریشن ’شیلڈ‘ میں یونان کی موجودہ شرکت صرف بحیرہ احمر (ریڈ سی) تک محدود ہے اور اس کا آبنائے ہرمز سے کوئی تعلق نہیں۔
VLGC Shivalik LPG Shipment India Mundra Port: ایل پی جی بحران کے درمیان بڑی راحت، 54 ہزار ٹن گیس لے کر بھارتی آئل ٹینکر جہاز ’شیوالک‘ پہنچا بھارت
حکام کے مطابق ایل پی جی سے بھرا یہ بڑا ٹینکر پیر کی صبح تقریباً نو بجے مندرا پورٹ پر لنگر انداز ہوا۔ جہاز قطر سے روانہ ہوا تھا اور اسے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سمندری خطرات کے باعث خصوصی حفاظتی انتظامات کے تحت سفر کرایا گیا۔ بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز اس کے ساتھ بطور اسکواڈ موجود رہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
Macron Urges Iran To Cease Regional Attacks: فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی ایران سے مشرق وسطیٰ میں حملے روکنے کی اپیل، خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار
میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔
US-Israel vs Iran War: ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو لے کر سات ممالک سے کی بات چیت، نیٹو پر کیا تشویش کا اظہار، فوجی مدد کے لیے کوئی ملک آگے نہ آیا
امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔
Middle East Conflict: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدے سے انکار، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زندہ ہونے پر بھی ظاہر کیا شبہ
امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔
Iran-US-Israel War: آبنائے ہرمز کھلا ہے، مگر اس کا کنٹرول ہمارے پاس ہے: آئی آر جی سی کمانڈر
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
West Asia Conflict: آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کی آمدورفت بحال، صنعتکاروں نے مودی کی سفارت کاری کو سراہا
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔
Middle East Crisis: ہم بھی جنگ کے لیے تیار ہیں، آپ شروع تو کر سکتے ہیں مگر ختم نہیں: ایرانی سفیر محمد فتح علی
ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔
Indian Vessel ‘Shivalik’ Safely Exits Strait of Hormuz: ایل پی جی لے کر آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکلا بھارتی جہاز ’شیوالک‘
آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر ایران کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس علاقے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
Iran to Provide Safe Passage to Indian Ships: ’’آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دے گا ایران…‘‘، ایرانی سفیر محمد فتح علی نے دی جانکاری
سفیر فتح علی نے کہا کہ بھارت اور ایران خطے میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارا دوست ملک ہے۔ آپ اسے دو سے تین گھنٹوں کے اندر دیکھ لیں گے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران اور بھارت کے اس خطے میں یکساں مفادات ہیں۔





