Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر ایران کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس علاقے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سفیر فتح علی نے کہا کہ بھارت اور ایران خطے میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارا دوست ملک ہے۔ آپ اسے دو سے تین گھنٹوں کے اندر دیکھ لیں گے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران اور بھارت کے اس خطے میں یکساں مفادات ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے درمیان آبنائے ہرمز میں پھنسے 24 بھارتی جہازوں اور تقریباً 600 عملے کے ارکان کو نکالنے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک حساس اور خطرناک سمندری راستہ بنا دیا ہے۔ کئی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے حالات میں بھارتی ٹینکر کا اس راستے سے محفوظ گزر کر ممبئی پہنچ جانا ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔