Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

وزیراعظم نے بتایا کہ بات چیت میں ہندوستان نے یو اے ای پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی، جن میں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور سیکیورٹی کی جلد بحالی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔

بھارت اپنی ضرورت کے تقریباً 85 سے 89 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ پہلے یہ تقریباً 55 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے آتا تھا، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 70 فیصد ہو گئی ہے۔ بھارت کی توانائی کی سپلائی محفوظ رہی ہے۔ بھارت کی یومیہ خام تیل کی کھپت تقریباً 55 لاکھ بیرل ہے اور یہ تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔

ماریناکس نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یورپی یونین کے آپریشن ’شیلڈ‘ میں یونان کی موجودہ شرکت صرف بحیرہ احمر (ریڈ سی) تک محدود ہے اور اس کا آبنائے ہرمز سے کوئی تعلق نہیں۔

حکام کے مطابق ایل پی جی سے بھرا یہ بڑا ٹینکر پیر کی صبح تقریباً نو بجے مندرا پورٹ پر لنگر انداز ہوا۔ جہاز قطر سے روانہ ہوا تھا اور اسے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سمندری خطرات کے باعث خصوصی حفاظتی انتظامات کے تحت سفر کرایا گیا۔ بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز اس کے ساتھ بطور اسکواڈ موجود رہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔

امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔