Bharat Express DD Free Dish

Iran-US-Israel War: آبنائے ہرمز کھلا ہے، مگر اس کا کنٹرول ہمارے پاس ہے: آئی آر جی سی کمانڈر

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ آبنائے ہرمز اب بھی کھلا ہے، تاہم اس پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خطے میں سکیورٹی کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔ اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے ایران کی بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب وہ عالمی تیل بردار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ایرانی کمانڈر کے مطابق یہ دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو عسکری طور پر بند نہیں کیا گیا بلکہ یہ راستہ بدستور کھلا ہے، تاہم اس کی نگرانی اور کنٹرول ایران کے پاس ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں موجود حالات اور سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا، ”آبنائے ہرمز کھلا ہے اور بین الاقوامی جہاز اس سے گزر سکتے ہیں، تاہم وہ ممالک جو ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں یا ان کے اتحادی ہیں، ان کے جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔ ان کے مطابق ایران کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی یا علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بنے۔ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے مجموعی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی سمندری راستے سے ہو کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے کی سکیورٹی اور استحکام عالمی توانائی کی رسد کے لیے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اپنے ابتدائی پیغام میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اس اہم سمندری گزرگاہ پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے گا۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز ان ممالک سے اپیل کی ہے جو اس راستے کے ذریعے تیل درآمد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کو چاہیے کہ وہ اس سمندری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ذمہ داری خود بھی اٹھائیں اور اس سلسلے میں امریکہ ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ ممالک جو آبنائے ہرمز میں کسی ممکنہ رکاوٹ سے متاثر ہو سکتے ہیں، انہیں امریکی فوج کے ساتھ مل کر اس اہم راستے کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق کئی ممالک اپنے جنگی جہاز اس علاقے میں بھیجنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے، تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک اپنی دفاعی اور بحری طاقت برقرار رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read