Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

امریکہ نے جہاز رانی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی قسم کی فیس یا ادائیگی کرتے ہیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ادارہ او ایف اے سی (OFAC) نے واضح کیا ہے کہ ادائیگی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے نقد ہو یا ڈیجیٹل، اس پر کارروائی ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز جیسے اہم اسٹریٹجک راستے پر اثر و رسوخ کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پیغام خطے میں جاری طاقت کی کشمکش اور بدلتے جیو پولیٹیکل حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس تجویز کا بنیادی مقصد جاری مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ اقدام ایرانی قیادت کے اندر جوہری رعایتوں کے دائرہ کار پر جاری اختلافات کو وقتی طور پر نظرانداز کرنے کی کوشش بھی ہے۔

ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے اور وہ اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف بحری سلامتی بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایران کے اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں امریکی بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی کارروائیوں کو اس کشیدگی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکیاں اور ناکہ بندی حقیقی بات چیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔