India Tanker Cross Hormuz: ’’سروشکتی‘‘ نے آبنائے ہرمز کیا پار، 45 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر آرہا ہے ٹینکر، بھارت کے لیے بڑی راحت
امریکہ نے جہاز رانی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی قسم کی فیس یا ادائیگی کرتے ہیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ادارہ او ایف اے سی (OFAC) نے واضح کیا ہے کہ ادائیگی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے نقد ہو یا ڈیجیٹل، اس پر کارروائی ہو سکتی ہے۔
Strait of Hormuz: ’’آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول، بغیر اجازت کوئی جہاز گزر نہیں سکتا‘‘ ایران نے اسٹریٹجک گزرگاہ پر نگرانی مزید بڑھادی
رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
Crude Oil Prices: ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو خفیہ پیغام میں کیا کہا؟
امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔
Future of Persian Gulf: غیر ملکی طاقتوں کے لیے خطے میں کوئی جگہ نہیں، خلیج فارس کا مستقبل امریکہ کے بغیر ہوگا: مجتبیٰ خامنہ ای
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز جیسے اہم اسٹریٹجک راستے پر اثر و رسوخ کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پیغام خطے میں جاری طاقت کی کشمکش اور بدلتے جیو پولیٹیکل حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
Iran Offers US New Proposal: آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی امریکہ کو نئی پیشکش، جوہری پروگرام کے معاملے پر تعطل برقرار
امریکی میڈیا کے مطابق اس تجویز کا بنیادی مقصد جاری مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ اقدام ایرانی قیادت کے اندر جوہری رعایتوں کے دائرہ کار پر جاری اختلافات کو وقتی طور پر نظرانداز کرنے کی کوشش بھی ہے۔
Iran Warns US: ’’خطے میں امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو دیں گے بھرپور جواب…‘‘، ایران کی سخت وارننگ
ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے اور وہ اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
Middle East Crisis: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے دیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں پر گولہ باری کا حکم
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف بحری سلامتی بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
Indian Seafarers Safe: مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود بھارتی جہاز محفوظ، 24 گھنٹوں میں کسی پر فائرنگ نہیں ہوئی: وزارت خارجہ
وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
Strait of Hormuz: آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت معطل، جہازوں کی ضبطی کے بعد توانائی سپلائی پر خدشات، عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ایران کے اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں امریکی بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی کارروائیوں کو اس کشیدگی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکیاں اور ناکہ بندی حقیقی بات چیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
Iran Attacks Ship Bound for India: آبنائے ہرمز میں ایران کا حملہ، بھارت آنے والے جہاز کو بنایا نشانہ
ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔





