واشنگٹن: امریکہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے کمرشل جہازوں کو نکالنے کے لیے ایک بڑے فوجی و انسانی ہمدردی کے آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اس اقدام کو ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کئی ممالک نے واشنگٹن سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کا جاری تنازع سے کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود ان کے جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان جہازوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے۔
آپریشن کا مقصد اور آغاز
یہ آپریشن مشرق وسطیٰ کے وقت کے مطابق پیر کی صبح شروع کیا جائے گا۔ امریکی صدر کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر جانبدار اور متاثرہ افراد کی مدد کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ جہاز بلا رکاوٹ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے اسے ایک انسانی ہمدردی کا مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی جہازوں پر خوراک اور طبی سہولیات کی کمی پیدا ہو رہی ہے، جس سے عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فوجی تعاون اور وسیع تیاری
یونائیٹیڈ اسٹیٹ سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج اس مشن میں بھرپور تعاون کرے گی۔ اس آپریشن میں گائیڈیڈ میزائل ڈسٹرائر، 100 سے زائد فضائی اور بحری پلیٹ فارمز، جدید بغیر پائلٹ نظام اور تقریباً 15 ہزار فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔ سینٹکام کے مطابق یہ اقدام عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور سمندری نقل و حمل کو بحال کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، کیونکہ دنیا کی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
ممکنہ رکاوٹوں پر سخت وارننگ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اس انسانی مشن میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر مثبت بات چیت جاری ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید ہے۔ یہ آپریشن نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے۔ امریکہ کی اس کارروائی کا مقصد اس اسٹریٹجک راستے میں بحری آمد و رفت کو معمول پر لانا اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

