Bharat Express DD Free Dish

US Navy

ایف-35 بی امریکی میرین کور کا جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے، جو شارٹ ٹیک آف اینڈ ورٹیکل لینڈنگ (STOVL) صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت یہ محدود رن وے یا مخصوص مقامات سے بھی پرواز بھرنے اور عمودی انداز میں لینڈنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان جہازوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے۔ عالمی تجارت کی بحالی ہدف۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف بحری سلامتی بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

اگر امریکہ تنازعہ میں کودتا ہے تو امید جتائی جا رہی کہ ایران نہ صرف امریکی اثاثوں پر بلکہ اہم علاقائی اتحادیوں پر بھی حملہ کر سکتا ہے، جس میں خلیجی ممالک ممکنہ طور پر پہلے اہداف میں شامل ہوں گے۔

مریکہ نے ہفتے کی رات یمن پر اپنے حملوں میں 100 سے زائد افراد کو زخمی اور ہلاک کیا۔ وہیں یمنی حوثیوں نے اتوار کی شام امریکی جنگی جہاز پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا، جس کے بعد امریکہ نے یمن پر دوبارہ بمباری کی۔

یمن میں جاری تازہ جنگی صورت حال کے درمیان حوثی باغیوں نے امریکی بحری جہاز پر ایک اور حملے کا دعویٰ کیا ہے اور اسے یمن پر امریکی حملوں کا ’’جواب‘‘ قرار دیا ہے۔