یمن کے حوثی باغیوں اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان ایک نیا بحران دنیا کی سب سے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک کے قریب پیدا ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالمی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ یمن کے مطابق امریکہ نے ہفتے کی رات یمن پر اپنے حملوں میں 100 سے زائد افراد کو زخمی اور ہلاک کیا۔ وہیں یمنی حوثیوں نے اتوار کی شام امریکی جنگی جہاز پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا، جس کے بعد امریکہ نے یمن پر دوبارہ بمباری کی۔ پورا معاملہ ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے۔
یمن میں کیا ہوا؟
امریکہ نے حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے لگاتار دو راتوں سے یمن پر بمباری جاری رکھی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک بچوں اور عورتوں سمیت 53 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں 100 کے قریب دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ امریکی حملوں نے یمن کے شہر صنعاکو نشانہ بنایا ہے، جو کہ یمن کا دارالحکومت ہے اور حوثیوں کے قبضے میں ہے۔ صنعا کے علاوہ اس کے اطراف اور صعدہ کی شمالی گورنری اور حدیدہ کی بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
کن لوگوں کو بنایا جا رہا ہے نشانہ؟
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں اور وہ مبینہ متاثرین کی تصاویر بھی شیئر کر رہے ہیں۔ یمن کے ایک آزاد تجزیہ کار نک برم فیلڈ نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’’ حملے بہت واضح طور پر حوثی رہنماؤں کے لیے ہیں، لیکن اگر کوئی عام شہری بھی راستے میں آ رہا ہے تو (ٹرمپ) کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ صنعا میں ہونے والے حملوں میں ایک رہائشی محلے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں کچھ حوثی رہنما بھی موجود تھے۔‘‘
کیا چاہتا ہے امریکہ؟
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ تب تک یمن پر بمباری کرے گا جب تک کہ وہ حوثیوں کو روک نہیں دیتا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے امریکی ’’فوجیوں اور اتحادیوں‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے مزید الزام لگایا ہے کہ حوثیوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ مل کر یمن پر حملے کیے ہیں۔
حوثیوں نے بھی کیا جوابی حملہ؟
وہیں حوثیوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین اور اس کے ساتھی جنگی جہازوں پر دو حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق حوثیوں نے امریکہ اور برطانیہ کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے بمباری نہیں کی ہے لیکن امریکی جہازوں کی فیولنگ کی ہے۔ حوثی ترجمان نے امریکی حملوں کا جواب دینے کے عہد کا اظہار کیا ہے۔
کیوں شروع ہوا ہے یہ معاملہ؟
واضح رہے کہ 2 مارچ کو اسرائیل نے غزہ میں داخل ہونے والی تمام امداد کو روک دیا تھا اور خوراک اور ادویات جیسی ضروری چیزوں کے داخلے کو بھی روک کر ایک طرح سے فلسطینیوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا۔ اس اسرائیلی ناکہ بندی کے پانچ دن بعد حوثی سربراہ عبدالملک الحوثی نے چار دن کی ڈیڈ لائن مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے ناکہ بندی ختم نہیں کی و حوثی سوئز نہر کی طرف جاتے ہوئے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اسرئیلی یا اسرائیل سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں پر دوبارہ حملے شروع کر دے گا۔ اسرائیل کی طرف سے ناکہ بندی ختم نہ ہونے کی صورت میں 11 مارچ کو حوثی ترجمان یحییٰ ساری نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں اسرائیلی بحری جہازوں پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا اعلان کیا۔
دراصل حوثی نومبر 2023 سے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں تاکہ وہ اسرائیل پر غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔ 19 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد حوثیوں نے جنگ بندی کی حمایت میں اپنے حملے روک دیے تھے۔ دوبارہ شروع ہوئے حملوں کے دوران حوثیوں کے امریکی جہازوں کو مار گرایا تھا۔ اس سے قبل 4 مارچ کو ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے پیش رو جو بائیڈن کے ہٹائے جانے کے بعد تقریباً چار سال بعد حوثیوں کو دوبارہ ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا۔
حوثیوں کے حملوں سے کیا اثر پڑا ہے؟
واضح رہے کہ بحیرہ احمر عالمی سمندری تجارت میں تقریباً 15 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ حوثیوں کے حملوں نے اس تجارت کے بیشتر حصے کو افریقہ کے جنوبی ساحل کے ارد گرد ایک طویل اور مہنگا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے، جس سے انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر افراط زر کی شرح متاثر ہوئی ہے۔حوثیوں کے حملوں میں مبینہ طور پر آٹھ افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے زیادہ تر حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا۔
کیا امریکی حملوں کے بعد حوثی رک جائیں گے؟
اگر ان کے ترجمانوں کی بات پر یقین کیا جائے تو ایسا نہیں ہوگا۔ حوثیوں کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے کہا کہ وہ نہیں رکیں گے اور ’’صورتحال کو سنگین سے سنگین سطح تک لے جائیں گے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یمنی شہریوں کو نشانہ بنانا صورت حال کا مقابلہ کرنے میں امریکہ کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ہے کہ ہم ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



