Bharat Express DD Free Dish

Iran Warns US: ایران کی امریکہ کو آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی وارننگ، امریکی مشن کے اعلان کے بعد پھر بڑھی کشیدگی

ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اس کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے اس کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔

تہران: ایران نے پیر کے روز امریکہ کی فوج کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے خلاف سخت وارننگ جاری کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوج اس اہم سمندری گزرگاہ کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔

سخت فوجی بیان اور سیدھی دھمکی
ایران کے مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا، ’’ہم خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی غیر ملکی مسلح افواج، خاص طور پر جارح امریکی فوج، اگر آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔”

امریکی مشن کے اعلان کے بعد کشیدگی
یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس آبی گزرگاہ میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے پیر سے ایک آپریشن شروع کرے گا۔ ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں بحری آمد و رفت کی آزادی کو بحال کرنا ہے۔

ایرانی کنٹرول اور سکیورٹی پر زور
ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اس کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے اس کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔

ٹرمپ کا بیان اور ’پروجیکٹ فریڈم‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ کئی ممالک نے واشنگٹن سے مدد طلب کی ہے کیونکہ ان کے جہاز اس آبنائے میں پھنسے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کا موجودہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس مشن کو ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا۔

انسانی بنیادوں پر کارروائی کا دعویٰ
ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد ’معصوم اور غیر جانبدار جہازوں‘ کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی کمی ہو رہی ہے، جس سے عملے کی حالت خراب ہو رہی ہے۔

سینٹکام کی تصدیق اور فوجی تیاری
امریکی سینٹکام نے تصدیق کی ہے کہ 4 مئی سے یہ آپریشن شروع ہوگا، جس میں تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے کے لیے فوجی مدد فراہم کی جائے گی۔ اس مشن میں گائیڈڈ میزائل تباہ کن جہاز، 100 سے زائد طیارے، بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور تقریباً 15,000 فوجی شامل ہوں گے۔

علاقائی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read