Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور جنگ بندی کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کے فیصلے کو تہران ’’حملے کے مترادف‘‘ قرار دے رہا ہے، جس کے باعث کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی اپیل پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے لیکن آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی، جبکہ امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی بحریہ نے ایک ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی)  کی گن بوٹس نے دو بھارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں آئل ٹینکر "سنمار ہیرالڈ" اور بلک کیریئر "جگ ارناو" شامل ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں جہاز ہرمز آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہز آبنائے ہُرم کو فوری، غیر مشروط اور مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے اور بین الاقوامی بحری قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے لندن میں مزید اجلاس ہوگا۔

ایران نے آبنائے ہرمزپرسخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طورپر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کی ملٹری کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدامات کے خلاف احتجاج میں کیا گیا ہے۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق، ایران نے 40 دن کے بعد آبنائے ہرمزکومکمل طورپر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عراقچی نے کہا، ہم اس راستے کوکھول رہے ہیں۔ ایرانی حکام راستے کا تعین کریں گے۔

جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔

اس پیش رفت کو مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال میں اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔