Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

ایران کے اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں امریکی بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی کارروائیوں کو اس کشیدگی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکیاں اور ناکہ بندی حقیقی بات چیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔

یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور جنگ بندی کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کے فیصلے کو تہران ’’حملے کے مترادف‘‘ قرار دے رہا ہے، جس کے باعث کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی اپیل پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے لیکن آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی، جبکہ امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی بحریہ نے ایک ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی)  کی گن بوٹس نے دو بھارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں آئل ٹینکر "سنمار ہیرالڈ" اور بلک کیریئر "جگ ارناو" شامل ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں جہاز ہرمز آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہز آبنائے ہُرم کو فوری، غیر مشروط اور مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے اور بین الاقوامی بحری قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے لندن میں مزید اجلاس ہوگا۔

ایران نے آبنائے ہرمزپرسخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طورپر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کی ملٹری کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدامات کے خلاف احتجاج میں کیا گیا ہے۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق، ایران نے 40 دن کے بعد آبنائے ہرمزکومکمل طورپر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عراقچی نے کہا، ہم اس راستے کوکھول رہے ہیں۔ ایرانی حکام راستے کا تعین کریں گے۔

جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔