نئی دہلی: یورپی ممالک آبنائے ہُرمز میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی اور اقتصادی صورتحال پر آئندہ اجلاس لندن میں منعقد کریں گے۔ اس حوالے سے فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی مشاورت پہلے ہی ہو چکی ہے، جس میں تقریباً 40 ممالک کے لیڈروں نے شرکت کی۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہنے تک آبنائے ہُرمز کو کھلا رکھا جائے گا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ امریکی بحریہ کی جانب سے ممکنہ ناکہ بندی کی صورت میں آبنائے بند کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
اس صورتحال پر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے برطانوی وزیراعظم کیراسٹامر اور فرانسیسی صدرامانوئل میکرون سے فون پر رابطہ کیا اور آبنائے ہُرمز کھولنے اور اسرائیل-لبنان جنگ بندی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں مارک کارنی نے کہا کہ عالمی بحری ٹریفک، توانائی کی منڈی اور سپلائی چینز کو درپیش خطرات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
دوسری جانب فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں ہونے والی اس میٹنگ پر امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ بعض بین الاقوامی ادارے ضرورت کے وقت غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔اجلاس میں یورپی ممالک کے تقریباً 30 لیڈروں کے علاوہ ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے نمائندوں نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرزا اور اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی بھی اس اجلاس میں شامل تھے۔یورپی لیڈروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو توانائی کی سپلائی متاثر ہونے سے مہنگائی، خوراک کی قلت اور فلائٹ منسوخی جیسے بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہز آبنائے ہُرم کو فوری، غیر مشروط اور مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے اور بین الاقوامی بحری قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے لندن میں مزید اجلاس ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


