Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرجنگ بندی نہ مانی گئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔ امریکی فوجی اس کے لئے تیارہیں۔

ایران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تہران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی پر سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایران –امریکہ اور اسرائیل سیزفائر کے بعد پہلی کھیپ میں 5 سے 6 جہاز جلد ہی آبنائے ہرمز عبور کر سکتے ہیں۔ جہازوں کے عملے اور ایران کے متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

جاپان کی طرف سے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ اگر تہران امریکی مطالبات پر عمل نہیں کرتا تو ایرانی انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر حملے ہو سکتے ہیں۔

بازار میں عدم استحکام کے اثرات ایندھن کی قیمتوں میں واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ امریکہ میں خام تیل کی بڑھتی لاگت کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے عالمی معیشت بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ خام تیل کی قیمتیں 170 ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ بھارت نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران سے تیل اور ایل پی جی کی درآمد شروع کر دی ہے۔