ایران کی بحریہ نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے مشرقی علاقے میں بحری سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ایک تیل بردار جہاز میں آگ لگ گئی۔ ایرانی فوج کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق جہاز نے مبینہ طور پر اپنے نیویگیشن نظام بند کر دیے تھے اور ایرانی حکام کی وارننگ کے باوجود ممنوعہ اور غیر محفوظ علاقے میں داخل ہوگیا تھا۔
ایرانی بحریہ نے جہاز کو خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا
ایرانی بحریہ نے تیل بردار جہاز کو ’خلاف ورزی کرنے والا‘ جہاز قرار دیا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے والے دیگر جہازوں کو بھی اسی طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اطلاع ژنہوا نیوز ایجنسی نے دی ہے۔
زیر زمین میزائل اور ڈرون تیار کرنے کی تنصیبات کا دعویٰ
دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی شعبے نے میزائل اور ڈرون تیار کرنے کے لیے زیر زمین تنصیبات قائم کرلی ہیں۔آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ ایران نے تیزی سے اپنی پیداواری سرگرمیوں کو سطح زمین پر موجود تنصیبات سے زیر زمین مقامات پر منتقل کیا ہے۔ ان کے مطابق تہران اپنے میزائلوں کی مار کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور یہ کوششیں جاری رہیں گی۔حسین محبی نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ فوجی حملے کیے گئے تو وہ ایسی صلاحیتوں کے ساتھ جواب دے سکتا ہے جنہیں اب تک ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، شناخت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے جغرافیائی حدود کی پروا کیے بغیر تیار ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ہفتہ کی صبح دو میزائل جزیرہ قشم سے ٹکرائے، تاہم خبر رساں ایجنسی نے اس حملے سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام پر نئے حملے کیے ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’معمولی‘ قرار دیا تھا۔اطلاعات کے مطابق جزیرہ قشم پر یہ اس ہفتے امریکہ کا دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی فوج نے پیر کے روز بھی اس جزیرے کو نشانہ بنایا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


