Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Ceasefire Talks

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب حالات بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی پر اختلاف، سمندری محاذ آرائی اور سفارتی تعطل جاری ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمزپرسخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طورپر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کی ملٹری کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدامات کے خلاف احتجاج میں کیا گیا ہے۔

ایران اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دورپیر کے روز(20 اپریل) اسلام آباد میں متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق، دونوں ممالک کے وفود اتوار کواسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اس اعتماد کا اظہارکیا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب ہیں۔

امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک بار پھر راست بات چیت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے افسر 21 اپریل کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایرانی افسران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسری میٹنگ کے ذریعہ تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ کے روزامریکہ اورایران کے درمیان اہم بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی سے چل رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تقریباً دو گھنٹے تک چلی امن مذاکرات میں دونوں فریق نے رضامندی تک پہنچنے کے لئے نرم رویہ دکھایا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور جلد شروع ہوگا۔

اسلام آباد میں جاری امریکہ-ایران امن مذاکرات کے درمیان ایرانی وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف کے سامنے چاراہم مطالبات رکھے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے مطابق، مذاکرات کے لئے 15 دنوں کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے۔ اگلے 48 گھنٹے بے حد اہم مانے جا رہے ہیں، جو طے کریں گے کہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوگا یا پھرکشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی میزبانی میں امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے لئے دونوں ممالک کے وفد پہنچ چکے ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھی پاکستان میں ہیں۔ جمعہ کے روز انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

امریکہ کے ساتھ جنگ ​​بندی مذاکرات کے لئے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقرقالیباف نے ماضی کی دھوکہ دہی کو یاد کرتے ہوئے امریکہ پرعدم اعتماد کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مخلصانہ مذاکرات میں مصروف ہے، لیکن امریکہ پراعتماد نہیں کرتا۔