Bharat Express DD Free Dish

Trump shares new map Strait of Hormuz:ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے والا نیا نقشہ شیئر کیا

ٹرمپ کی جانب سے یہ نقشہ ایسے وقت میں شیئر کیا گیا ہے جب آبنائے ہرمز کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے اس کی خاص اہمیت ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک نیا نقشہ شیئر کیا، جس میں آبنائے ہرمز کے علاقے کو ’’امریکہ کا نیا علاقہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ نقشہ ایسے وقت میں شیئر کیا گیا ہے جب آبنائے ہرمز کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے اس کی خاص اہمیت ہے۔ ٹرمپ نے نقشہ شیئر کرتے ہوئے اس کے ساتھ کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم، ان کی تازہ پوسٹ کو گزشتہ ہفتے دیے گئے اس بیان کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ ’’بہت جلد‘‘ آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دیں گے۔ تازہ نقشے میں اسی دعوے کو بصری شکل میں پیش کیا گیا ہے، جس کے بعد اس اہم بحری راستے کی حیثیت اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت موقف

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے موقف میں نرمی کے کوئی آثار نہیں دکھائے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ کے ساتھ طے پانے والے 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت (MoU) میں ایران کی تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، اس وقت تک آبنائے ہرمز سمندری آمدورفت کے لیے بند رہے گی۔ قالیباف نے اس معاملے کو غیر ملکی پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے براہ راست جوڑا ہے۔ ان کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو مفاہمت کی یادداشت میں کیے گئے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک معاہدے میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جاتے، آبنائے نہیں کھولی جائے گی۔ ان شرائط میں مبینہ طور پر ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد اثاثے جاری کرنا، تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنا، تمام محاذوں پر دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور دیگر متفقہ شرائط شامل ہیں۔

عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑنے والی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے اس راستے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ایران کی جانب سے جہازوں کی آمدورفت روکنے کا موقف اور ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے والا نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔ عالمی سطح پر اس بحری راستے سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھی جارہی ہے، کیونکہ اس میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کا اثر توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر پڑ سکتا ہے۔

ایران نے دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہونے کا دعویٰ کیا

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دشمنوں کو کشیدگی مزید نہ بڑھانے کی وارننگ بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دشمن کی کارروائیوں اور جارحیت کے تناسب سے اس کا مزید سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ قالیباف نے سفارتی عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے فوجی تصادم کو روکنے کا جو موقع پیدا ہوا، اس نے ایران کو اپنی قومی سلامتی اور داخلی معیشت کو مضبوط بنانے کا اہم موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگ بندی کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت سے پیدا ہونے والے موقع نے ایران کی اقتصادی مضبوطی بڑھانے اور دفاعی صلاحیت کو دوبارہ مستحکم کرنے میں مدد دی ہے۔

ٹرمپ کی پوسٹ کے بعد کشیدگی پر نظر

ٹرمپ کی جانب سے نئے نقشے کی اشاعت اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے شرائط عائد کیے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ ایک طرف امریکہ آبنائے کے حوالے سے سخت موقف کا اظہار کررہا ہے، تو دوسری جانب ایران اسے اپنی شرائط سے جوڑ رہا ہے۔ فی الحال ٹرمپ نے نقشے کے ساتھ کوئی اضافی وضاحت نہیں دی ہے، لیکن گزشتہ ہفتے ان کے بیان اور اب نئے نقشے کی اشاعت نے اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر مزید اہم بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے باعث خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ عالمی توانائی بازار کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جارہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read