Urdu Conclave 2026

Geopolitical Tensions

ایران نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر فیصلہ نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’ابھی تک ایران کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ معاہدے پر جلد دستخط ہونے والے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں تیل و گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں ایران کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھایا گیا ہے۔ نقشے کے اوپر ’’متحدہ ریاستہائے مشرقِ وسطیٰ‘‘ تحریر کیا گیا ہے۔

جنگی کشیدگی کے باعث ایرانی کرنسی ریال پر بھی شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز تہران کی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال تک گر گئی، جو اس ماہ کی کم ترین سطح کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ایران اور عالمی معیشت دونوں پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں مرکزی ستون بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای ہفتے کے روز مبینہ طور پر امریکی۔اسرائیلی افواج کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ وہ 1989 سے ایران کی قیادت کر رہے تھے، جب بانی انقلاب امام خمینی کے انتقال کے بعد انہوں نے منصب سنبھالا تھا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کے وزیرِ دفاع امیر نصیر زادہ اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر محمد پاکپور ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان اطلاعات کی تاحال سرکاری تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

چلیبی ایوی ایشن کی سکیورٹی کلیئرنس کی منسوخی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کے دوران بھارت کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔