Urdu Conclave 2026

Global Conflict

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز جیسے اہم اسٹریٹجک راستے پر اثر و رسوخ کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پیغام خطے میں جاری طاقت کی کشمکش اور بدلتے جیو پولیٹیکل حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

ایسوسی ایشن آف میوچول فنڈز ان انڈیا (AMFI) کے مارچ 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETF) میں مارچ کے دوران سرمایہ کاری میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ گولڈ ای ٹی ایف میں خالص سرمایہ کاری گھٹ کر 2,266 کروڑ روپے رہ گئی، جو فروری کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم ہے۔

ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے عوام، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ملک کے اہم اثاثوں کا تحفظ کریں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ’’یہ ہمارے وسائل اور ہماری ملکیت ہیں‘‘ اور عوام سے ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی۔

یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے امریکی مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو واضح کیا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔