امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس صرف 48 گھنٹے ہیں کہ وہ یا تو معاہدہ کرے یا اہم سمندری راستہ آبنائے ہرمز کو کھول دے، بصورت دیگر ’’سنگین نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واشنگٹن ڈی سی میں جاری کشیدہ صورتحال کے درمیان ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے یہ انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’یاد رکھیں، میں نے ایران کو 10 دن کا وقت دیا تھا کہ وہ معاہدہ کرے یا ہرمز کو کھولے، اب وقت ختم ہو رہا ہے 48 گھنٹے باقی ہیں، اس کے بعد سخت کارروائی ہوگی۔‘‘ انہوں نے اپنے پیغام میں مذہبی جملے کا بھی استعمال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اپنی شرائط پر سمجھوتہ چاہتا ہے۔
پہلے دی گئی مہلت اور سفارتی کوششیں
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 مارچ کو ایران کو 10 دن کی مہلت دی تھی، جس کے دوران ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے روک دیے گئے تھے۔ اس فیصلے کو انہوں نے ایرانی حکومت کی درخواست پر عارضی رعایت قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ان کے مطابق یہ بات چیت ’’بہت اچھی جا رہی ہے‘‘ حالانکہ بعض میڈیا رپورٹس اس کے برعکس دعویٰ کر رہی تھیں۔ امریکی صدر نے اس سے قبل امریکی محکمہ جنگ کو ہدایت دی تھی کہ ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملے کو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کیا جائے، تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے۔ انہوں نے ایران کو پہلے بھی 48 گھنٹوں کی وارننگ دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو اس کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور عالمی اثرات
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر سیاسی و معاشی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ تازہ 48 گھنٹوں کے الٹی میٹم کے بعد عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ سفارتی حل کی کوششیں جاری ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی دھمکیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے ممکنہ اثرات عالمی امن اور معیشت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
