Urdu Conclave 2026

War escalation

ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے عوام، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ملک کے اہم اثاثوں کا تحفظ کریں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ’’یہ ہمارے وسائل اور ہماری ملکیت ہیں‘‘ اور عوام سے ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ساتھیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی موت نے قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، تاہم ان کا مشن پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گا۔

ایران کے شہر مناب میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے اسے انتہائی خوفناک واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 160 سے زیادہ طالبات اس وقت ہلاک ہوئیں جب وہ اسکول میں زیرتعلیم تھیں۔

ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے اس جنگی جہاز پر حملے کی سخت مذمت کی۔ یہ جہاز ایران کے جدید ترین جنگی جہازوں میں سے ایک تھا اور ایک فوجی مشق مکمل کرنے کے بعد واپس آ رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج اپنے سمندری سرحدوں کا دفاع کرے گی اور اپنی بحری طاقت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ کام کرے گی۔

یہ تمام پیش رفت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر داغے، جن میں اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔

حملے کے طریقۂ کار کی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ یوکرین روس کے اندر موجود اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بڑھتے ہوئے حملے اور نیوکلیئر تنصیبات کے قریب خطرات پورے یورپی خطے میں سلامتی سے جڑے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔