Bharat Express DD Free Dish

Green Sanvi transited the Strait of Hormuz: بھارت کا ایل پی جی ٹینکر ’’گرین سانوی‘‘ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرا، مغربی ایشیا کشیدگی کے باوجود توانائی سپلائی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری

’’گرین سانوی‘‘ کی کامیاب روانگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود بھارت اپنی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سفارتی اور سکیورٹی اقدامات کر رہا ہے۔

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی پرچم بردار ایل پی جی ٹینکر ’’گرین سانوی‘‘ نے آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کر لیا۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ اس حساس سمندری راستے سے گزرنے والا ساتواں بھارتی جہاز ہے، جو حالیہ تنازع کے دوران محفوظ طریقے سے اپنی منزل کی جانب بڑھا ہے۔

توانائی سپلائی کے لیے اہم پیش رفت

اطلاعات کے مطابق ’’گرین سانوی‘‘ تقریباً 44 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر جا رہا ہے، جو بھارت کی یومیہ کھپت کے ایک بڑے حصے کے برابر ہے۔ یہ ٹینکر ایران کے سمندری حدود سے ایک مخصوص اور محفوظ راستہ اختیار کرتے ہوئے گزرا، تاکہ خطرات سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید دو بھارتی ٹینکرز ’’گرین آشا‘‘ اور ’’جگ وکرم‘‘ کے بھی اسی راستے سے گزر کر بھارت پہنچنے کی توقع ہے، جس سے توانائی کی سپلائی میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

سمندری سرگرمیاں اور بھارتی جہازوں کی موجودگی

رپورٹس کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے یعنی خلیج فارس میں بھارت کے 17 پرچم بردار جہاز موجود ہیں۔ ان میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی ٹینکرز کے علاوہ کنٹینر جہاز، بلک کیریئرز اور دیگر تجارتی جہاز شامل ہیں۔ یہ تمام جہاز توانائی اور تجارتی سپلائی چین کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ایران کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی اور عالمی اہمیت

بھارت اس اہم سمندری راستے سے اپنے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ایران کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے۔ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران اگرچہ آمدورفت پر پابندیاں عائد کی ہیں، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ دوست ممالک کے جہاز مناسب ہم آہنگی کے ساتھ اس راستے سے گزر سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق چین، روس، بھارت، عراق اور پاکستان جیسے ممالک کے جہازوں کو اس حساس گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ’’گرین سانوی‘‘ کی کامیاب روانگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود بھارت اپنی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سفارتی اور سکیورٹی اقدامات کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read