Bharat Express DD Free Dish

LPG-carrying vessel Nanda Devi: وزیراعظم مودی اور ایرانی صدر کی بات چیت کے بعد پیش رفت، ایل پی جی لانے والا جہاز ’نندا دیوی‘ بھی آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرا

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی برآمدات گزرتی ہیں۔  بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے مطابق خلیج فارس کے علاقے میں اس وقت 28 بھارتی پرچم بردار جہاز موجود ہیں اور ان سب کی سکیورٹی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

نئی دہلی: ایران کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ایل پی جی لے کر آنے والا دوسرا جہاز نندا دیوی بھی آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گیا ہے۔ اس سے قبل ایل پی جی لانے والا جہاز شیوالک بھی اس اہم سمندری راستے سے کامیابی کے ساتھ نکل چکا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جہاز شیوالک کو بھارتی بحریہ کی سکیورٹی میں لایا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دو دنوں میں یہ کسی بھارتی بندرگاہ پر پہنچ جائے گا۔ امکان ہے کہ یہ جہاز ممبئی یا کانڈلا بندرگاہ پر لنگر انداز ہو۔ ذرائع کے مطابق جہاز اس وقت کھلے سمندر میں داخل ہو چکا ہے اور بھارتی بحریہ کی رہنمائی میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔

46 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی

اطلاعات کے مطابق جہاز نندا دیوی میں 46,000 میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی لدی ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حساس سمندری راستے سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے دونوں جہازوں کو بحریہ کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہازوں کی آمد نریندر مودی اور مسعود پزشکیان کے درمیان مال اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد ممکن ہو سکی۔ اس دوران بھارت میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے جمعہ کو اشارہ دیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود بھارتی جہازوں کو جلد ہی آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’جی ہاں، کیونکہ بھارت ہمارا دوست ہے۔ آپ یہ اگلے دو تین گھنٹوں میں دیکھ لیں گے۔ ہمارا ماننا ہے کہ اس خطے میں ایران اور بھارت کے مشترکہ مفادات ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے بعد کی صورتحال میں بھارتی حکومت نے مختلف شعبوں میں ایران کی مدد کی ہے۔ سفیر کا یہ بیان ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے کچھ ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

عالمی تجارت کے لیے اہم راستہ

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی برآمدات گزرتی ہیں۔  بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے مطابق خلیج فارس کے علاقے میں اس وقت 28 بھارتی پرچم والے جہاز موجود ہیں اور ان سب کی سکیورٹی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان میں سے 24 جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں موجود ہیں جن پر 677 بھارتی ملاح سوار ہیں، جبکہ 4 جہاز آبنائے ہرمز کے مشرق میں ہیں جن پر 101 بھارتی ملاح موجود ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔