Bharat Express DD Free Dish

diplomatic tension

اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی ٹی وی میزبان نے ایک نشریاتی پروگرام کے دوران اطالوی زبان میں میلونی کے خلاف سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے وزیراعظم کو ’’انسانیت کے لیے شرمناک،جنگلی جانور، مصدقہ بیوقوف‘‘ اور دیگر نازیبا القابات سے مخاطب کیا۔

ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’’خود سے مذاکرات کر رہا ہے‘‘ اور اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے سخت مؤقف اور اپنی شرائط پر اصرار کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تنازع فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، جبکہ عالمی توانائی اور سلامتی کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز وہاں تعینات کریں، لیکن اس اپیل کو خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور اب تک کسی ملک نے اس کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔  دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس ’’غیر قانونی جنگ‘‘ کے خلاف جتنا بھی وقت لگے دفاع کے لیے تیار ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ غیر روایتی اور جذباتی رویہ بھارت-امریکہ تعلقات کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری خود اندازہ لگا سکتی ہے کہ ایسے بیانات کتنی غیر ذمہ داری ظاہر کرتے ہیں اور یہ ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول پر پہلے سے موجود شکوک کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

امریکی دورے کے دوران جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو وجود کا خطرہ لاحق ہوا تو وہ خطے کو ایٹمی جنگ میں دھکیل سکتا ہے، مزید یہ بھی کہا کہ اگر بھارت نے دریائے سندھ پر ڈیم بنانے کی کوشش کی تو پاکستان اسے ’’ہر قیمت پر‘‘ روکے گا۔  وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت کسی بھی ایٹمی بلیک میل کے آگے جھکنے والا نہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔