امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت اور وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق ایسا موقف اختیار کیا ہے جس نے سیاسی حلقوں میں گرمی بڑھا دی ہے۔ چار دن تک جاری رہنے والی بھارت-پاکستان جنگ کے بعد ٹرمپ نے بار بار بھارت کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس جنگ کو رکوانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم مودی کو فون پر بات کر کے جنگ بندی کی کوشش کی اور خبردار کیا کہ اگر لڑائی نہ رکی تو امریکہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کر دے گا۔
پاکستان کو بھاری ٹیرف کی دھمکی
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کو وارننگ دی تھی کہ اگر جنگ جاری رہی تو اس پر بھاری ٹیرف لگا دیا جائے گا، جس سے اس کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، دھمکی دینے کے صرف پانچ گھنٹے بعد ہی جنگ ختم ہو گئی۔ اس بیان نے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے دونوں ممالک کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا اور اس دوران سات لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے۔ ان بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ بھارت اور مودی کے حوالے سے ایک غیر معمولی شخصی وابستگی رکھتے ہیں۔
مودی کا فون نہ اٹھانا اور ٹرمپ کی بے چینی
جرمنی کے ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے مودی کو چار مرتبہ فون کیا، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ اس بے اعتنائی نے ٹرمپ کی بے چینی میں اضافہ کیا، یہاں تک کہ انہوں نے بھارت کے خلاف سخت بیانات دینا شروع کر دیے۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ طرز عمل اس شخص کے رویے سے مشابہ ہے جو کسی تعلق کے ٹوٹنے کے بعد ایک طرف شکایت کرتا ہے اور دوسری طرف دوبارہ تعلق بحال کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے، مگر دل میں بے اطمینانی برقرار رہتی ہے۔
بھارت-امریکہ تعلقات کی بدلتی تصویر
یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو ٹرمپ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بھارتی وزرائے اعظم امریکی صدور سے ملاقات کے لیے طویل انتظار کرتے تھے اور امریکی کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری سے کتراتی تھیں۔ لیکن آج بھارت کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور خطے میں اس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، امریکہ جیسے طاقتور ملک کو بھی اسے نظر انداز کرنے نہیں دیتا۔ ٹرمپ جیسے لیڈروں کا بھارت کے بارے میں یہ رویہ دراصل اس کی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا اعتراف ہے۔
آئندہ تعلقات پر ممکنہ اثرات
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ غیر روایتی اور جذباتی رویہ بھارت-امریکہ تعلقات کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

