Bharat Express DD Free Dish

Trump statement

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ کر ایران کے ساتھ فوجی دشمنی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ’وار پاورز ریزولوشن‘ کی مدت کی حد اور سیاسی دباؤ اس فیصلے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں…

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایسے پوپ کو پسند نہیں کرتے جو ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کے حق میں نرم رویہ رکھتے ہوں یا امریکہ کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کریں۔ انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تاکہ سخت قانون و نظم اور مضبوط خارجہ پالیسی نافذ کی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’اگر بھارت نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی تو اسے بھاری قیمت چکانی ہوگی‘‘۔ بھارت نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے شہریوں کے مفاد میں سستا تیل خرید رہے ہیں، کسی ملک کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت سے خوش نہیں تھا کیونکہ اس سے ماسکو کو یوکرین جنگ جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’روس نے اب تک تقریباً پندرہ لاکھ افراد کھوئے ہیں، جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ غیر روایتی اور جذباتی رویہ بھارت-امریکہ تعلقات کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔