روس اور اٹلی کے درمیان ایک نیا سفارتی تنازع اس وقت پیدا ہو گیا جب ایک روسی ٹی وی اینکر نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے خلاف نہایت توہین آمیز اور متنازع بیانات دیے۔ اس واقعے کے فوراً بعد اٹلی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے روم میں تعینات روسی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا اور باضابطہ احتجاج درج کرایا۔ اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی ٹی وی میزبان ولادیمیر سولوویوف نے ایک نشریاتی پروگرام کے دوران اطالوی زبان میں میلونی کے خلاف سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے وزیراعظم کو ’’انسانیت کے لیے شرمناک،جنگلی جانور، مصدقہ بیوقوف‘‘ اور دیگر نازیبا القابات سے مخاطب کیا۔ مزید برآں روسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے میلونی کو ’’فاشسٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے ووٹرز اور حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی دھوکہ دیا ہے۔ ان بیانات کے بعد اٹلی میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
اٹلی کا سخت سفارتی احتجاج اور اپوزیشن کا ردعمل
اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ روسی سفیر الیکسی پیرامونوف کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا تاکہ اس معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔ انہوں نے ان ریمارکس کو نہایت سنگین اور ناقابل قبول قرار دیا۔ ادھر اٹلی کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس واقعے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ کسی بھی ملک کے سربراہ کے خلاف اس نوعیت کی زبان استعمال کرنا سفارتی آداب کے منافی ہے۔
میلونی کا دوٹوک جواب—’’راستہ نہیں بدلیں گے‘‘
وزیراعظم جارجیا میلونی نے خود بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس طرح کے بیانات انہیں اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ طنز اور حملے ہمیں اپنا راستہ بدلنے پر مجبور نہیں کریں گے۔ ہمارا واحد مقصد اٹلی کے مفادات کا تحفظ ہے اور ہم اسی پر قائم رہیں گے۔‘‘ میلونی نے مزید کہا کہ ان کا یہ مؤقف ان عناصر کو ناگوار گزرے گا جو پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہیں، تاہم وہ کسی دباؤ میں آنے والی نہیں ہیں۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اٹلی اور روس کے تعلقات پہلے ہی یوکرین جنگ کے باعث کشیدہ ہیں، کیونکہ میلونی حکومت مسلسل یوکرین کی حمایت کرتی رہی ہے۔ مزید برآں حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور میلونی کے درمیان بھی بیانات کی جنگ دیکھنے میں آئی، جس سے عالمی سفارتی ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس واقعے سے نہ صرف اٹلی اور روس کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوگا بلکہ یہ معاملہ بین الاقوامی سفارتکاری میں زبان اور رویّے کے معیار پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

