Bharat Express DD Free Dish

Political Row

الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی اور رتبرتا بنرجی دونوں سے وضاحت طلب کی ہے۔ کمیشن نے دونوں فریقوں کو پیر6 جولائی شام 5:30 بجے تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ 

عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال نے جمعہ کو ایودھیا دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ایس آئی ٹی کے پاس مؤثر تحقیقات کرنے کے اختیارات ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ رام مندر میں چندے اور قیمتی نذرانوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ اپنی تنظیمی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپوزیشن کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کو نصیحت دی۔

سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے کہا کہ سکھ برادری اکال تخت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھگونت مان خود کو سکھ سمجھتے ہیں اور اکال تخت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں فوراً وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے، حکومت چھوڑنی چاہیے اور اکال تخت میں حاضر ہو کر معافی مانگنی چاہیے۔

پرینکا چترویدی نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’بی جے پی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ سپولوں کا جھنڈ جمع کرکے انہیں دودھ پلائے گی تو وہ صرف اپوزیشن کو ہی ڈسیں گے۔ آپ کی باری بھی آئے گی، کیونکہ سانپ کی فطرت ہی ڈسنا ہے۔ آج اگر ہماری باری ہے، کل آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘

یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جب راج بھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی جانب سے رتن پورہ بازار میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس جلسے میں راج بھر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو انہیں جوتوں سے مارا جائے۔

اس معاملے پر ابھی تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی آفیشیل ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے طلبہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایس ایف آئی نے اپنے بیان میں یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی اجازت دینا ’’براہِ راست اشتعال انگیزی‘‘ ہے۔ 

ماہرین کے مطابق سسودیا اور کیجریوال کے یہ خطوط نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عدالتی عمل پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس پر کوئی مزید ردِ عمل ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔

کانگریس لیڈر نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر بھی بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے آر جی کر میڈیکل کالج کے مبینہ ریپ اور قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں جوابدہی کا فقدان ہے اور حکومتیں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتیں۔