Bharat Express DD Free Dish

Resignation Demand: بھگونت مان استعفیٰ دیں اور اکال تخت پر حاضر ہو کر معافی مانگیں، ایس جی پی سی رکن سرجیت سنگھ بٹاوڑ کی اکال تخت کے حکم نامے کی حمایت

سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے کہا کہ سکھ برادری اکال تخت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھگونت مان خود کو سکھ سمجھتے ہیں اور اکال تخت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں فوراً وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے، حکومت چھوڑنی چاہیے اور اکال تخت میں حاضر ہو کر معافی مانگنی چاہیے۔

امرتسر: شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) کے رکن سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان سے متعلق متنازع وائرل ویڈیو کے معاملے میں اکال تخت کی جانب سے جاری حکم نامے کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور اکال تخت میں حاضر ہو کر معافی طلب کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ ویڈیو کی ایک سرکاری طور پر تسلیم شدہ ایجنسی سے جانچ کرائی گئی ہے، جس میں اسے اصلی قرار دیا گیا ہے۔

اکال تخت کے حکم نامے کی حمایت

سرجیت سنگھ بٹاوڑ کا یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا، جب قائم مقام جتھیدار گیانی کلدیپ سنگھ گرجاج کی قیادت میں اکال تخت نے سکھ برادری کو ہدایت دی تھی کہ وہ متنازع ویڈیو کے تنازع کے پیش نظر پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان سے ہر قسم کا تعلق ختم کر دے۔ تاہم، بھگونت مان نے ویڈیو کی صداقت کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’جھوٹا پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا ہے۔

ویڈیو میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی

اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے کہا، ’’ویڈیو کی مکمل جانچ کی گئی ہے۔ سنگھ صاحب (جتھیدار) نے بتایا کہ ایک سرکاری طور پر تسلیم شدہ ایجنسی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ویڈیو میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی، نہ ہی یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی گئی ہے بلکہ یہ مکمل طور پر اصل ویڈیو ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسی بنیاد پر اکال تخت صاحب سے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بھگونت مان کو سکھ برادری کا مخالف قرار دیا گیا ہے اور ہدایت دی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص ان سے تعلق نہ رکھے۔ ان کے مطابق یہ ایک نہایت اہم مذہبی حکم ہے۔

اگر خود کو سکھ سمجھتے ہیں تو معافی مانگیں

سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے کہا کہ سکھ برادری اکال تخت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر بھگونت مان خود کو سکھ سمجھتے ہیں اور اکال تخت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں فوراً وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے، حکومت چھوڑنی چاہیے اور اکال تخت میں حاضر ہو کر معافی مانگنی چاہیے۔‘‘

بھگونت مان نے الزامات مسترد کیے

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے وائرل ویڈیو کی صداقت کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں واضح اور دوٹوک انداز میں اس ویڈیو کی صداقت کو مسترد کرتا ہوں۔ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص میں نہیں ہوں۔ نہ اس کی قد و قامت مجھ سے ملتی ہے اور نہ جسمانی ساخت۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جب انہیں اکال تخت میں طلب کیا گیا تھا تو انہوں نے بھی یہی وضاحت دی تھی کہ ویڈیو میں موجود شخص ان سے کسی بھی طرح مشابہت نہیں رکھتا۔

مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کا الزام

بھگونت مان نے الزام لگایا کہ بعض مذہبی عہدوں پر فائز افراد سیاسی مفادات کے تحت غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سری اکال تخت صاحب کو اعلیٰ ترین مذہبی ادارہ مانتے ہیں، لیکن وہاں موجود بعض منتظمین سیاسی آقاؤں کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ میری شبیہ خراب کرنے کی یہ کوششیں اور اکال تخت میں بیٹھے منتظمین کے سیاسی سرپرستوں کی یہ حکمت عملی بالکل غلط ہے۔‘‘

سکھبیر سنگھ بادل کا بھی دعویٰ

ادھر شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بھگونت مان سے متعلق وائرل ویڈیو اصلی ہے اور اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں الزام لگایا کہ چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں پنجاب کے وزیراعلیٰ ایک ایسے قابلِ اعتراض عمل میں ملوث نظر آئے، جس سے گرو کی بے ادبی ہوئی۔ ان کے مطابق اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پوری سکھ برادری میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read