Bharat Express DD Free Dish

Punjab Politics

راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر مقرر کیا، سابق ہاکی کپتان اور اولمپین پرگٹ سنگھ کی تقرری فوری طور پر نافذ ہوگی، کانگریس کی جانب سے جاری بیان میں راجہ وڈنگ کے دور صدارت کے لیے ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔ راجہ وڈنگ 2022 سے پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کی قیادت کر رہے تھے۔

امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے پنجاب کانگریس کے صدر کے عہدے سے باضابطہ استعفیٰ دے دیا، ساڑھے چار سال سے زائد عرصے تک ریاستی صدر رہنے کے بعد اسمبلی انتخابات سے چند ماہ پہلے لیا فیصلہ، پارٹی میں تنظیمی تبدیلی کی قیاس آرائیاں تیز۔

جالندھر میں ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کے اختتامی پروگرام سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا خطاب، بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل، 31 دسمبر 2029 سے پہلے پنجاب کو ’چٹے‘ کے کاروبار سے پاک کرنے کا وعدہ

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے سیاسی مستقبل کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد گزشتہ چار برسوں میں انہیں کوئی خاص ذمہ داری یا کردار نہیں ملا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کانگریس اب انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کرے گی۔

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کے درمیان پگڑی سے متعلق سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے، جبکہ کانگریس نے انتخابی ریاستوں میں اپنی نئی میڈیا ٹیموں کو میدان میں اتارنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

شرومنی اکالی دل کے صدرسکھبیرسنگھ بادل کی 7 اگست کودہلی میں وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کے بعد دونوں پارٹیون کے درمیان ایک بارپھر اتحاد ہونے کی قیاس آرائیوں نے زورپکڑلیا تھا۔ حالانکہ بی جے پی کے ریاستی صدر نے اب اس پر بریک لگا دیا ہے۔

شرومنی اکالی دل کو بی جے پی کے قدیم ترین اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تقریباً ڈھائی دہائیوں تک سیاسی اتحاد قائم رہا، لیکن 2020 میں تین زرعی قوانین کے معاملے پر دونوں کی راہیں الگ ہوگئیں۔ اس وقت مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں نے پنجاب کی سیاست میں الگ الگ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم مودی نے پنجاب کی موجودہ صورت حال پربھی ریاستی حکومت کوتنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں امن وامان کی حالت تشویش ناک ہے اور گینگ وار، بھتہ خوری اور جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش نوجوان نسل سے متعلق ہے، کیونکہ منشیات کی اسمگلنگ پنجاب کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔

 پنجاب کانگرس میں تنظیم میں تبدیلی سے متعلق پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے کی بنائی گئی کمیٹی نے کانگریس ہائی کمان کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے تقریباً 70 لیڈران سے بات چیت کرکے ان کی رائے معلوم کی ہے۔ اب ہائی کمان کی طرف سے اسے عوامی کیا جائے گا اور نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے کہا کہ سکھ برادری اکال تخت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھگونت مان خود کو سکھ سمجھتے ہیں اور اکال تخت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں فوراً وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے، حکومت چھوڑنی چاہیے اور اکال تخت میں حاضر ہو کر معافی مانگنی چاہیے۔