Bharat Express DD Free Dish

Punjab Politics

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کے درمیان پگڑی سے متعلق سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے، جبکہ کانگریس نے انتخابی ریاستوں میں اپنی نئی میڈیا ٹیموں کو میدان میں اتارنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

شرومنی اکالی دل کے صدرسکھبیرسنگھ بادل کی 7 اگست کودہلی میں وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کے بعد دونوں پارٹیون کے درمیان ایک بارپھر اتحاد ہونے کی قیاس آرائیوں نے زورپکڑلیا تھا۔ حالانکہ بی جے پی کے ریاستی صدر نے اب اس پر بریک لگا دیا ہے۔

شرومنی اکالی دل کو بی جے پی کے قدیم ترین اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تقریباً ڈھائی دہائیوں تک سیاسی اتحاد قائم رہا، لیکن 2020 میں تین زرعی قوانین کے معاملے پر دونوں کی راہیں الگ ہوگئیں۔ اس وقت مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں نے پنجاب کی سیاست میں الگ الگ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم مودی نے پنجاب کی موجودہ صورت حال پربھی ریاستی حکومت کوتنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں امن وامان کی حالت تشویش ناک ہے اور گینگ وار، بھتہ خوری اور جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش نوجوان نسل سے متعلق ہے، کیونکہ منشیات کی اسمگلنگ پنجاب کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔

 پنجاب کانگرس میں تنظیم میں تبدیلی سے متعلق پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے کی بنائی گئی کمیٹی نے کانگریس ہائی کمان کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے تقریباً 70 لیڈران سے بات چیت کرکے ان کی رائے معلوم کی ہے۔ اب ہائی کمان کی طرف سے اسے عوامی کیا جائے گا اور نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

سرجیت سنگھ بٹاوڑ نے کہا کہ سکھ برادری اکال تخت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھگونت مان خود کو سکھ سمجھتے ہیں اور اکال تخت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں فوراً وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے، حکومت چھوڑنی چاہیے اور اکال تخت میں حاضر ہو کر معافی مانگنی چاہیے۔

پنجاب کے مجیٹھیا علاقے میں بکرم سنگھ مجیٹھیا کی حمایت اور مخالفت میں پوسٹر وار شدت اختیار کر گئی ہے۔ ’ٹائیگر ابھی زندہ ہے‘ لکھے پوسٹروں نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے، جبکہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سیاسی بیان بازی بھی تیز ہو گئی ہے۔

بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کے گڑھ میں بڑی سیند لگاتے ہوئے بھگونت مان کے چچا بلجیندر سنگھ اور چچازاد بھائی گیان سنگھ مان کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل کرلیا۔ پیر کے روز چندی گڑھ میں بی جے پی دفتر میں پنجاب بی جے پی صدر سنیل جاکھڑ نے انہیں پارٹی کی رکنیت دلائی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے میدان میں اترے گی۔ ان کے مطابق صرف بی جے پی کی حکومت ہی پنجاب کو منشیات کے مسئلے سے نجات دلا سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب اس وقت گینگسٹرز کے خوف، قرضوں، تبدیلیٔ مذہب، بدعنوانی اور منشیات کے مسائل سے دوچار ہے۔

امت شاہ نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی کی قیادت پنجاب کے وسائل کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے وزیراعلیٰ کو شرم آنی چاہیے کیونکہ دہلی سے آئے ’’چار صوبیدار‘‘ پنجاب کی دولت لوٹ کر واپس دہلی لے جا رہے ہیں۔