Urdu Conclave 2026

Manish Sisodia writes to Delhi HC: منیش سسودیا نے دہلی ہائی کورٹ کو لکھا خط، کہا-’’کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا، اب صرف ستیہ گرہ ہی واحد راستہ‘‘

ماہرین کے مطابق سسودیا اور کیجریوال کے یہ خطوط نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عدالتی عمل پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس پر کوئی مزید ردِ عمل ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر منیش سسودیا نے دہلی ہائی کورٹ کی جج جسٹس سورن کانتا شرما کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ اپنے مقدمے میں کسی بھی وکیل کی نمائندگی قبول نہیں کریں گے اور انہیں انصاف ملنے کی امید نہیں رہی۔ سسودیا نے اپنے خط میں لکھا کہ ’’میری جانب سے بھی کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا۔ ایسی صورتحال میں مجھے آپ سے انصاف کی امید نہیں ہے، اور اب میرے پاس ستیہ گرہ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔‘‘ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اس سے قبل اروند کیجریوال بھی اسی نوعیت کا خط لکھ چکے ہیں، جس میں انہوں نے عدالتی کارروائی پر خدشات ظاہر کیے تھے۔ عام آدمی پارٹی مسلسل اس موقف پر قائم ہے کہ مقدمے کی کارروائی میں جانبداری کے آثار پائے جاتے ہیں۔

عدالت کا فیصلہ اور ردِ عمل

حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے کیجریوال کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے جج سے خود کو کیس سے الگ کرنے (Recusal) کی اپیل کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جانبداری کے الزامات قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور ان کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف کسی کے تاثر کی بنیاد پر جج کو کیس سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور اس طرح کی درخواستیں عدالتی نظام کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔

جانبداری کے خدشات

کیجریوال نے اپنے خط میں جج کے بعض قانونی اداروں سے تعلق اور ان کے اہلِ خانہ کے سرکاری وکلاء کے طور پر تقرر کا حوالہ دیتے ہوئے ممکنہ مفاداتی ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی بات اٹھائی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم میں استعمال ہونے والی زبان نے ان کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے بعد انہیں یقین نہیں رہا کہ کیس غیر جانبدار ماحول میں سنا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق سسودیا اور کیجریوال کے یہ خطوط نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عدالتی عمل پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس پر کوئی مزید ردِ عمل ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read