Bharat Express DD Free Dish

judiciary

راہل گاندھی نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اس عمل پر سوال اٹھایا ہے، جو ششر کی شکایت کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ راہل گاندھی کے پاس ان کی معلوم آمدنی کے ذرائع سے زیادہ اثاثے ہیں۔

یہ فیصلہ گیمز کرافٹ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور نردیشا نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر سنایا گیا۔ درخواست گزاروں نے 11 نومبر 2025 کو درج ای سی آئی آر اور اس کے بعد ای ڈی کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیوں کو چیلنج کیا تھا۔

وزیرداخلہ نے ’ایکس‘ پوسٹ پر کہا ہے کہ ’’نوجوانوں کا مفاد اور ان کا روشن مستقبل مودی حکومت کی اولین ترجیح بھی ہے اور عزم بھی۔ وزیراعظم کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے ذریعے پیپر لیک کے معاملات میں قصورواروں کے خلاف فوری سماعت اور سخت کارروائی کا فیصلہ اسی کا مظہر ہے۔

برطانیہ میں روس پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار بھارتی کیپٹن اجے پنت کی ضمانت کی درخواست لندن کی عدالت نے مسترد کر دی۔ جانیے پورا معاملہ کیا ہے اور مقدمے کی اگلی سماعت کب ہوگی۔

برطانیہ میں مقیم بھارتی برادری کا اہم نام اجے پنت کی عدالتی سماعت سے قبل سماجی کارکن رِتو نے بھارتی برادری  سے باوقار انداز میں شرکت اور اخلاقی حمایت کی درخواست کی ہے۔

ماہرین کے مطابق سسودیا اور کیجریوال کے یہ خطوط نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عدالتی عمل پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس پر کوئی مزید ردِ عمل ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔

اس دوران سی جے آئی گوئی نے غریبوں اور پسماندہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں سپریم کورٹ کے پچھلے 75 سالوں میں دیے گئے فیصلوں پر بھی بات کی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ‘‘درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔’’

یاد رہے کہ ابھی کچھ دن پہلے جب وزیر اعظم نریندر مودی گنیش پوجا میں شرکت کے لیے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر گئے تھے تو اس کو لے کر کافی سیاسی ہنگامہ ہوا تھا۔ جب اپوزیشن پارٹیوں نے اس پر سوال اٹھائے تو وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ریلی میں اسٹیج سے اس کا جواب دیا۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف عدلیہ کی سالمیت کی توہین کر رہی ہیں ۔بلکہ ججوں کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔ ایسے لوگ جو طریقے اپناتے ہیں وہ کافی پریشان کن ہوتے ہیں۔