Delhi SIR: اڈوانی سے لے کر جے شنکر اور کیجریوال تک، حتمی ووٹر فہرست میں ہوں گے شامل VVIPs کے نام، الیکشن کمیشن نے وجہ بتائی
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی ووٹر فہرست سے میچ نہیں ہو سکا تھا۔ایسے زیادہ تر معروف ووٹر نئی دہلی اسمبلی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق نوٹس جاری ہونے کا مطلب ووٹر کا نام خود بخود فہرست سے خارج ہونا نہیں ہے۔
Kejriwal-Sisodia Hearing: کیجریوال اور سسودیا کی درخواست پر 18 اگست کو ہوگی اگلی سماعت
دہلی شراب پالیسی معاملے میں الزامات سے بری کیے گئے اروند کیجریوال اور منیش سسودیا نے سی بی آئی کی اپیل خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
CBI Excise Policy Case: دہلی شراب پالیسی معاملے میں ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو جواب داخل کرنے کا دیا آخری موقع
سی بی آئی نے 27 فروری کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، درگیش پاٹھک سمیت تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ تحقیقی ایجنسی کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ مقدمے میں ایسے کافی شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیے۔
Delhi High Court News: اروند کیجریوال اوردیگرکوالیکشن لڑنے سے نا اہل قرار دینے کی مفاد عامہ کی عرضی خارج، دہلی ہائی کورٹ نے دیا بڑا فیصلہ
درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ اروند کیجریوال اور دیگر عدالتی کارروائی کو بدنام کرنے اور متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیں؟ لیکن کیا سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی قانون میں کوئی شق موجود ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا مکمل قانونی ڈھانچہ کیا ہے؟
اروند کیجریوال-سسودیا سمیت عام آدمی پارٹی کے کئی لیڈران کی مشکلات میں اضافہ، دہلی ہائی کورٹ نے توہین عدالت معاملے میں مانگا جواب
دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورسنجے سنگھ سمیت دیگرلیڈران سے ان کے تبصروں کے لئے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف تبصروں کے لئے توہین عدالت کے معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے 14 مئی کے حکم کی بنیاد پرکارروائی شروع کی، جس میں سوشل میڈیا پوسٹس اوردیگرمواد کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ایکسائز پالیسی کیس سے متعلق ہے، جہاں سیاسی لیڈران نے جج کوہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
Manish Sisodia writes to Delhi HC: منیش سسودیا نے دہلی ہائی کورٹ کو لکھا خط، کہا-’’کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا، اب صرف ستیہ گرہ ہی واحد راستہ‘‘
ماہرین کے مطابق سسودیا اور کیجریوال کے یہ خطوط نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عدالتی عمل پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس پر کوئی مزید ردِ عمل ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔
Delhi HC to Hear Kejriwal and Sisodia’s Acquittal Case: دہلی ہائی کورٹ میں 9 مارچ کو کیجریوال اور سسودیا کی رہائی معاملے میں سماعت، سی بی آئی نے دائر کی ہے عرضی
عدالت نے تقریباً 300 استغاثہ گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ ملزمان کے خلاف ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو سنگین شبہ پیدا کرے۔ عدالت کے مطابق قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد کے بغیر ملزمان کو مکمل ٹرائل کا سامنا کرنے پر مجبور کرنا انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا۔
Arvind Kejriwal’s Big Challenge to PM Modi: ’اگر 10 سیٹیں بھی لائے تو سیاست چھوڑ دوں گا‘ — بری ہونے کے بعد کیجریوال نے وزیر اعظم مودی کو دیا بڑا چیلنج
عام آدمی پارٹی کے قومی صدر اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو دہلی آبکاری پالیسی معاملے میں جمعہ کے روز راؤز ایونیو کورٹ نے بری کر دیا۔
Delhi Liquor Policy Case: ’’ادھرم اور ناانصافی ہارتی ہے اور سچ ہی جیتتا ہے…‘‘، عدالت سے بری ہونے کے بعد اروند کیجریوال نے ایکس پر کیا پوسٹ
اروند کیجریوال کی رہائی کے بعد ان کی اہلیہ سنیتا کیجریوال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اروند کیجریوال نے اپنی پوری زندگی ایمانداری کے ساتھ گزاری ہے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ بھارت ترقی کرے۔ لیکن ان لوگوں نے اقتدار کی لالچ میں ہم پر چھوٹے الزامات لگائے گئے۔
Delhi Liquor Policy Case: دہلی شراب پالیسی کیس: عدالت سے بری ہونے کے بعد اروند کیجریوال جذباتی، میڈیا کے سامنے روپڑے
رونے کے دوران کیجریوال نے کہا کہ ’’کیجریوال بدعنوان نہیں ہے‘‘ اور عدالت نے ثابت کر دیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے لیے آئین کے ساتھ اس طرح کا کھیل نہ کھیلا جائے۔





