مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی بحری جہازوں پر کیے گئے فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی ہے، جبکہ ایران نے بھی امریکی اہداف پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی بحری جہاز طویل عرصے سے خطے میں عالمی جہازرانی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔ بیان میں کہا گیا: ’’اب وہ دن ختم ہو چکے ہیں جب ایرانی بحری جہاز علاقائی پانیوں میں خلل ڈالتے تھے۔‘‘
For decades, Iranian naval vessels have threatened and harassed global shipping in regional waters, but those days are over. pic.twitter.com/J4WUwpfU24
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 28, 2026
ایران کا دبئی میں حملوں کا دعویٰ
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوج کے دو خفیہ ٹھکانوں پر حملے کیے گئے، جس میں بھاری جانی نقصان ہوا۔ ایران کے مطابق ان مقامات پر 500 سے زائد امریکی فوجی موجود تھے، جن میں سے تقریباً 400 ایک مقام اور 100 دوسرے مقام پر تھے۔ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے مبینہ طور پر ان ٹھکانوں کی نشاندہی کر کے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ’’بھاری جانی نقصان‘‘ ہوا اور ایمبولینسیں کئی گھنٹوں تک زخمیوں اور ہلاک شدگان کو منتقل کرتی رہیں۔ ایرانی فوجی ترجمان نے کہا کہ امریکی قیادت کو اب اندازہ ہو جانا چاہیے کہ یہ خطہ امریکی فوجیوں کے لیے ’’قبرستان‘‘ بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کو بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔
خلیجی ممالک کو ایران کی وارننگ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو امریکہ اور اسرائیل کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران پیشگی حملوں کا قائل نہیں، لیکن اگر تہران کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: ’’اگر ہمارے مراکز پر حملہ ہوا تو ہم سخت ردعمل دیں گے، اور دشمنوں کو اپنی زمین سے جنگ چلانے کی اجازت نہ دیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


