ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی اقتصادی پابندیوں پر دونوں ممالک کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت کا چوتھا دور اتوار کو عمانی دارالحکومت مسقط میں شروع ہوا۔یہ اطلاع ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے دی۔
Iran and the United States have begun their fourth round of indirect negotiations, focusing on the nuclear issue and the lifting of sanctions on Tehran, in the Omani capital, Muscat.https://t.co/BtQDsCm8Ik pic.twitter.com/urIRgluMV9
— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) May 11, 2025
براہ راست مذاکرات سے انکار لیکن بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی
یہ مذاکرات اپریل کے وسط میں عمان میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے ایک ماہ بعد ہوئے ہیں اور دو ہفتے کے وقفے کے بعد جوہری مذاکراتی عمل میں اب تک کا سب سے طویل وقفہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پہلا اور تیسرا دور 12 اور 26 اپریل کو مسقط میں ہوا جب کہ دوسرا دور 19 اپریل کو روم میں ہوا۔ بات چیت کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مارچ کے اوائل میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو خط بھیجا جس میں اسلامی جمہوریہ کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کی پیشکش کی گئی تھی۔ ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا لیکن بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔
پابندیوں میں نرمی کے بدلے جوہری پروگرام کو کم کرنے کا عہد
قابل ذکر ہے کہ ایران نے 2015 میں چین، فرانس، روس، برطانیہ، امریکہ اور جرمنی کے علاوہ یورپی یونین کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس نے ایران پر پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو کم کرنے کا عہد کیا۔ امریکہ نے ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں 2018 میں اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس سے معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اعلان کیا کہ وہ اپنے وعدوں کو کم کرے گا اور اپنی جوہری تحقیق اور یورینیم کی افزودگی کی سطح پر پابندیوں کو چھوڑ دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


