Bharat Express DD Free Dish

Iran president signs law suspending cooperation with IAEA: ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون باضابطہ طور پر معطل کردیا

قانون کے متن میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات نہیں بتائے گئے، حالانکہ ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل تھی۔پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد اس بل کو گارڈین کونسل نے منظور کیا، جو قانون سازی کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے والے قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کردیا ہے۔ اس حکم نامے کو اب ایران کے ایٹمی توانائی ادارے، قومی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ کو عمل درآمد کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ قانون کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق ایران اب IAEA کے معائنہ اور تعاون کے پروگراموں سے خود کو عارضی طور پر الگ کر رہا ہے۔ حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 123 کا حوالہ دیتے ہوئے اس قانون کو 4 جولائی 2024 سے نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔

اس فیصلے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے شفافیت میں کمی آ سکتی ہے اور مغربی ممالک کے ساتھ پہلے سے موجود کشیدگی مزید گہری ہو سکتی ہے۔یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب عالمی سطح پر ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں شکوک و شبہات اور مذاکرات دونوں عروج پر ہیں۔ صدر کی جانب سے جاری کیا گیا یہ حکم نامہ اب ایران کے ایٹمی رہنما خطوط میں ایک فیصلہ کن موڑ سمجھا جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے قانون کے متن کے مطابق یہ قانون سازی ’ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت بنیادی حقوق کی مکمل حمایت کو یقینی بنانے’ اور ’ خصوصاً یورینیم کی افزودگی’ کے مقصد سے کی گئی ہے۔یورینیئم افزودگی کا معاملہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری مذاکرات میں اختلافات کی اصل وجہ رہا، جو جنگ کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔اسرائیل اور بعض مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں، تاہم تہران نے اس الزام کی ہمیشہ تردید کی ہے۔

قانون کے متن میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات نہیں بتائے گئے، حالانکہ ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل تھی۔پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد اس بل کو گارڈین کونسل نے منظور کیا، جو قانون سازی کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار ہے، اور اس کے بعد صدارتی منظوری دی گئی۔ایرانی سرکاری ٹی وی نے آج بتایا کہ صدر مسعود پزیشکیان نے ’ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے قانون کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ایرانی حکام نے آئی اے ای اے پر شدید تنقید کی ہے کہ اس نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں پر ’ خاموشی’ اختیار کی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read