Bharat Express DD Free Dish

IAEA

سال 2008 میں طے پانے والا بھارت-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدہ ایک بار پھر سیاسی اور اسٹریٹجک بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سال 2009 کے ایک امریکی سرکاری دستاویز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا اس وقت کی UPA حکومت نے بھارت کے سِول نیوکلیئر پروگرام کو بین الاقوامی ادارے IAEA کی مستقل نگرانی میں دے کر ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا تھا۔

روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ نے 28 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں یوکرین سے علاقائی رعایتیں دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس یورپی ممالک نے ایک متبادل منصوبہ پیش کیا ہے۔

قانون کے متن میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات نہیں بتائے گئے، حالانکہ ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل تھی۔پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد اس بل کو گارڈین کونسل نے منظور کیا، جو قانون سازی کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار ہے۔

یہ قدم IAEA کی ایک رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں تہران پر تین غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے جوہری مواد کی موجودگی کے بارے میں پوری طرح سے وضاحت نہ دینے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ ایجنسی نے تعاون کی پیشکش کو ’تسلی بخش سے کم‘ بتایا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملے کے بعد ایران کی سیاسی قیادت، خاص طور پر پارلیمان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

جنگ پسند اور قانون شکن امریکی حکومت اس سنگین جارحیت اور اس گھناؤنے جرم کے خطرناک نتائج اور دور رس اثرات کی مکمل ذمہ دار ہے: ایرانی وزارت خارجہ

جنوبی کوریا، چین اور بحرالکاہل کے کچھ جزیرہ نما ممالک بھی سیکورٹی خدشات اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اس کی مخالفت کر رہے ہیں