Iran Natanz Nuclear Site Attack: کیا اب جنگ ’ایٹمی‘ رخ اختیار کرے گی؟ ایران کے سب سے بڑے جوہری مرکز پر حملہ، تہران کا دعویٰ — خطرے میں ہے پوری دنیا
ایران کے نطنز جوہری مرکز پر حملے نے اس تنازع کو انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ نطنز صرف ایران کا یورینیم افزودگی مرکز ہی نہیں بلکہ زمین کے اندر گہرائی میں قائم ہونے کی وجہ سے اسے ناقابلِ تسخیر دفاعی تنصیب سمجھا جاتا تھا۔ اگر تابکاری کے اخراج (ریڈی ایشن لیک) کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ جنگ محض فوجی تصادم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک عالمی ماحولیاتی تباہی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
Iran president signs law suspending cooperation with IAEA: ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون باضابطہ طور پر معطل کردیا
قانون کے متن میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات نہیں بتائے گئے، حالانکہ ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل تھی۔پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد اس بل کو گارڈین کونسل نے منظور کیا، جو قانون سازی کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار ہے۔
Iran’s nuclear base Fordo Plant: پہاڑوں کے 300 فٹ نیچے ایران کا ناقابلِ تسخیر نیوکلیئر اڈہ، اسرائیلی بم کچھ نہ بگاڑ سکے، صرف امریکہ ہی اسے کر سکتا ہے تباہ
یہ صورت حال نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے اتحادی اسرائیل کے لیے بھی ایک انتہائی پیچیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ فردو پلانٹ، اس وقت مشرق وسطیٰ کی جیوپولیٹیکل جنگ کا مرکز بن چکا ہے، جس کا ہر ایک قدم پوری دنیا پر اثر ڈال سکتا ہے۔





