Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

ایران میں جاری شدید اور پرتشدد مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پہلی مرتبہ ایرانی حکام نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے موجودہ بحران اور خونریز تصادم کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا جواز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس دوران کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ احتجاج کے دوران چھ بھارتی اور دس افغان شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن ایران کے سفیر محمد فتح علی نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہیں، جہاں عوام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ملک میں گزشتہ 84 گھنٹوں سے زائد عرصے سے فون اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں جاری ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

مظاہرین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر عوام حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے واپسی کے اشارے دیتے ہوئے مظاہرین سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

امریکی حکام نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے صبر اور عزم کا امتحان نہ لے۔ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن بدستور جاری ہے اور اس کی مدت اب 60 گھنٹوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ایران میں جاری بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر خواتین کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ برسوں کے جبر کے باعث ایران کی قیادت نے خود ہی اس بدامنی کو جنم دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق،انہوں نے بہت غلط کام کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے عوام کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے اور اب اسی کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف عوام سڑکوں پر ہیں۔ یہ احتجاج بڑھتی مہنگائی، خراب معاشی حالات اور سکیورٹی فورسز کی سخت گیر کارروائیوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ ایران کے جلا وطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے جمعرات اور جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے احتجاج کی اپیل کی تھی۔