نئی دہلی: ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران ایران میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ احتجاج اب پرتشدد شکل اختیار کر چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کم از کم 2,638 افراد کو کیا جا چکا ہے گرفتار
امریکہ میں انسانی حقوق کی سرگرمیوں سے وابستہ نیوز ایجنسی ایچ آر اے این اے (HRANA) نے ہفتہ کے روز اندازہ لگایا کہ کم از کم 2,638 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایک جانب امریکہ مسلسل ایران کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال کرتی ہے تو امریکی فوج کارروائی کرے گی، جبکہ دوسری جانب ایران نے بھی امریکہ کو سخت جواب دیا ہے۔
ایران کے اٹارنی جنرل محمد مواحدی نے کیا خبردار
ایران کے اٹارنی جنرل محمد مواحدی آزاد نے خبردار کیا ہے کہ احتجاج میں شامل ہونے والوں پر ’اللہ کا دشمن‘ ہونے کا الزام لگایا جا سکتا ہے، جو ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے والوں پر بھی یہی الزام عائد کیا جائے گا۔
امریکی حکام نے تہران کو کیا خبردار
دوسری طرف امریکی حکام نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے صبر اور عزم کا امتحان نہ لے۔ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن بدستور جاری ہے اور اس کی مدت اب 60 گھنٹوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔
ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کیا خبردار
ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی حملے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تہران اسرائیل اور اس کے اطراف میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کرے گا۔
امریکی مداخلت کیلئے ہائی الرٹ پر اسرائیل
اسرائیلی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں جاری حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ خامنہ ای حکومت کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران کوئی نیا حملہ کرتا ہے تو ایران امریکی فوجی اور شپنگ اہداف کو نشانہ بنائے گا، جس سے اسرائیل کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

