تہران: ایران میں خواتین کے احتجاج نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ اس بار احتجاج کی شکل غیر معمولی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایرانی خواتین کو ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جلتی تصاویر سے سگریٹ جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ عمل محض سگریٹ پینے تک محدود نہیں بلکہ اقتدار، حجاب، سماجی پابندیوں اور خواتین کی آزادی پر عائد قدغنوں کے خلاف کھلا اعلانِ بغاوت ہے۔ ایران جیسے سخت قوانین والے ملک میں سپریم لیڈر کی تصویر جلانا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، جبکہ خواتین کا عوامی مقامات پر سگریٹ پینا بھی سماجی اور قانونی طور پر ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس کے باوجود خواتین کا اس طرح سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خوف کی دیواریں اب ٹوٹ رہی ہیں۔ ہاتھوں میں پلے کارڈ، لبوں پر سگریٹ اور آنکھوں میں بے خوفی لیے یہ خواتین یہ پیغام دے رہی ہیں کہ وہ اب مزید دباؤ برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
An Iranian girl burns a picture of Ayatollah Khamenei and lights her cigarette, a new trend in Iran!
Young Iranian women are leading the revolution against the Islamic regime.
— Dr. Maalouf (@realMaalouf) January 10, 2026
یہ احتجاج دراصل 2022 میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک کی ایک نئی کڑی ہے۔ مہسا امینی کی موت نے ایران میں خواتین کے حقوق، حجاب قوانین اور ریاستی جبر کے خلاف بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا تھا۔ اس وقت سڑکوں پر بڑے مظاہرے ہوئے، جنہیں حکومت نے سختی سے کچل دیا۔ تاہم احتجاج ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے ڈیجیٹل اور علامتی شکل اختیار کر لی۔ آج سوشل میڈیا اس مزاحمت کا سب سے مضبوط ہتھیار بن چکا ہے۔
🇮🇷 Las mujeres de Irán vuelven tendencia fotografiarse prendiendo un cigarrillo con la foto en llamas del líder supremo, Ali Jamenei. pic.twitter.com/ufYLoNaphU
— Progresismo Out Of Context (@OOCprogresismo2) January 9, 2026
خامنہ ای کی تصاویر سے سگریٹ جلانا دراصل اقتدار کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ایرانی خواتین یہ واضح کر رہی ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی، لباس اور سوچ پر ریاست کا مکمل کنٹرول اب قابلِ قبول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز چند لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں، چاہے حکومت انٹرنیٹ پابندیوں اور گرفتاریوں کے ذریعے آواز دبانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے۔
Burning headscarves in Tehran tonight.
Iranians are also setting fire to possessions of the regime forces, including cars, mosques, and their homes.
They are sending Khamenei a message.
But they are also trying to send the world a message.
Please help spread it. pic.twitter.com/pTIrAMzVFu
— dahlia kurtz ✡︎ דליה קורץ (@DahliaKurtz) January 10, 2026
اس عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ ایران کا سنگین معاشی بحران بھی ہے۔ ملک شدید مہنگائی کی زد میں ہے، ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور روزمرہ اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ان حالات نے عوام خصوصاً خواتین کے غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران حکومتی علامتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اعلیٰ قیادت کی تصاویر جلائی گئیں۔ ایرانی حکومت احتجاج کو دبانے کے لیے مسلسل سخت اقدامات کر رہی ہے، مگر اس کے باوجود خواتین کی آواز رک نہیں پا رہی۔ یہ احتجاج اب محض مقامی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی ڈیجیٹل تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایرانی خواتین کی یہ جرات مندانہ مزاحمت دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ آزادی کی خواہش کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ دنیا بھر کی نظریں اب ایران میں خواتین کی اس خاموش مگر مضبوط بغاوت پر جمی ہوئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

