ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہوگی اور ایسی کسی بھی کوشش کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ خامنہ ای کے اس بیان کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات ایک بار پھر گہرے ہو گئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ہی کشیدہ رہے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں حالات مزید بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی میں یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ شدید دباؤ کے باعث خامنہ ای ملک چھوڑ سکتے ہیں، لیکن اب انہوں نے ایران میں رہتے ہوئے امریکہ کو براہِ راست چیلنج کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ تہران کسی دباؤ میں آنے والا نہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی یہ وارننگ امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران مداخلت کے اشارے دیے تھے۔ ایران نے امریکی موقف کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایرانی قیادت کے مطابق امریکہ جان بوجھ کر داخلی عدم استحکام کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کو جنگ کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے وہ اندرونی انتشار پیدا کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کی خدمت کرنے والوں، خصوصاً موجودہ قیادت کا ساتھ دیں اور امریکہ کی توہین آمیز پالیسیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہیں۔
انہوں نے ان آوازوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی وکالت کرتی ہیں۔ خامنہ ای کے مطابق ایسے لوگ دور اندیش نہیں ہیں، کیونکہ امریکہ کا اصل مقصد ایران کو اپنے تابع بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اس طرح کی ذلت کو کبھی قبول نہیں کرے گی اور جو بھی ایسی امیدیں باندھتا ہے، قوم اس کے خلاف پوری قوت سے کھڑی ہوگی۔ ایران کے سپریم لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی ایجنٹس نے ایک یورپی دارالحکومت میں خفیہ ملاقاتیں کیں اور یہاں تک کہ ایران کے لیے ایک نام نہاد بادشاہ مقرر کرنے کی کوشش کی گئی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں شامل ایرانی عناصر قابلِ مذمت ہیں اور امریکہ کے عزائم اب پوری طرح واضح ہو چکے ہیں۔ فوجی محاذ پر بھی ایران نے سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ ایرانی قیادت اور اعلیٰ سکیورٹی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک ایرانی رکنِ پارلیمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت یورپ تک مار کرنے کی اہل ہے اور مستقبل میں واشنگٹن ڈی سی بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں آ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو ایران کی بڑھتی ہوئی یورینیم افزودگی پر شدید تحفظات ہیں۔ تاہم ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن مغربی ممالک اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ دونوں ممالک کی عسکری طاقت، اتحادیوں کا کردار اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات اس تنازع کو نہایت خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا سفارت کاری کوئی راستہ نکال پاتی ہے یا دنیا ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




