Bharat Express DD Free Dish

Trump offers US assistance for Iran’s Gen Z Protest: ایران میں جین زی مظاہرین پر فائرنگ سے ٹرمپ برہم، امریکی مدد کا دیا آفر، ایرانی حکام نے جاری کیا سخت انتباہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پرتشدد احتجاج ایران کے تقریباً 21 صوبوں تک پھیل چکا ہے اور 2022 کے بعد اسے ملک کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ سنگین معاشی بحران ہے۔ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، روزگار کے مواقع کی کمی اور بڑھتی مہنگائی نے عوام میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔

نئی دہلی: ایران میں گزشتہ چار دنوں سے جین زی مظاہرے جاری ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف جینجی کے عوام جمعہ کے روز پانچویں دن بھی سڑکوں پر نکل آئے۔ ان مظاہروں میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مظاہروں میں ہلاکتوں پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’اگر ایران پُرامن مظاہرین پر گولیاں چلاتا ہے اور انہیں بے دردی سے مارتا ہے، جیسا کہ ان کا معمول رہا ہے، تو امریکہ ان کی مدد کے لیے آگے آئے گا اور ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے شکریہ۔‘‘

ایرانی حکام نے جاری کیا سخت انتباہ

ایرانی حکام نے ملک کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ امریکی مداخلت سے پورے خطے میں بدامنی پھیلے گی اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر علی شمخانی نے ایران کی قومی سلامتی کو’ریڈ لائن‘قرار دیا ہے۔

درجنوں مظاہرین کا سڑکوں پر احتجاج

اس ہفتے ایران کے تقریباً 21 صوبوں میں درجنوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ کئی مقامات پر بدھ کے روز پولیس سے جھڑپ کے بعد مظاہرے پرتشدد ہو گئے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، گاڑیوں کو آگ لگائی اور بعض مسلح عناصر نے حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ حالانکہ، بعد میں پولیس نے کچھ افراد سے اسلحہ ضبط کر لیا۔

سنگین معاشی بحران ہے احتجاج کی وجہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پرتشدد احتجاج ایران کے تقریباً 21 صوبوں تک پھیل چکا ہے اور 2022 کے بعد اسے ملک کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ سنگین معاشی بحران ہے۔ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، روزگار کے مواقع کی کمی اور بڑھتی مہنگائی نے عوام میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔

سپریم لیڈر کے خلاف ہو رہا ہے احتجاج

اگرچہ ایران میں ماضی میں مذہبی معاملات پر بھی مظاہرے ہوتے رہے ہیں، لیکن اس بار عوامی احتجاج براہِ راست معاشی مسائل اور سپریم لیڈر کے خلاف ہو رہا ہے۔ ایران میں مہنگائی کی شرح 42.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خوراک کی قیمتوں میں تقریباً 72 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read